اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

عورت مارچ۔۔۔ خلیل الرحمان قمر خاموش نہ رہے ،پھر کھل کر بول پڑے

datetime 14  مارچ‬‮  2021 |

لاہور، کراچی( این این آئی)نامورمصنف و ہدایتکار خلیل الرحمان قمرنے کہا ہے کہ ہر چیز اپنی حدود میں اچھی لگتی ہے اورجب کوئی اپنی حدود سے باہرنکل جائے تو پھریقینا اس پر بات ہوتی ہے ، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو عزت و احترام اورحقوق میسر نہیں ہیں ، مٹھی بھر خواتین جو کررہی ہیںوہ کسی عالمی ایجنڈے کا حصہ ہیں ۔

ایک انٹرویو میں خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ آٹھ مارچ کو جو کچھ کیا جاتا ہے اور پھر جس طرح اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے ہر ذی شعور جانتا ہے اس کے پیچھے اصل ایجنڈا کیا ہے ہے ۔ اگرکوئی شخص اس پر بات کرتا ہے تو اسے خواتین کی آزادی کے خلاف بات کرنے والا کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عورت چاہے وہ ماں،بہن ،بیٹی اوربیوی ہو اسے عزت و احترام حاصل ہے ، آٹھ مارچ کو سڑکوں پر آنے والی خواتین کسی صورت بھی ہماری آبادی کے نصف سے زائد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ ان کا اپنا ایک ایجنڈا ہے ۔دوسری جانب پاکستان میوزک انڈسٹری کی معروف گلوکارہ میشا شفیع بھی عورت مارچ کے مخالفین کو کھری کھری سنانے میدان میں آگئیں۔ میشا شفیع نے ٹوئٹر پر عورت مارچ کی حمایت میں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ مظلوم طبقے کیلئے اپنی آواز بلند کرنے کا صرف ایک ہی عالمی دن ہے اور جب وہ  پسماندہ اور زیادتی کا شکار طبقہ اس دن سڑکوں پر نکلا تو نفرت انگیز افراد نے اس دن

کو بھی تاریک بنا دیا۔گلوکارہ نے اپنے اگلے ٹوئٹ میں لکھا کہ یاد رہے کہ اس مرتبہ یہ معاملہ ایک لڑکی کے پوسٹر سے شروع ہوا جسے ایک مولوی نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ بچوں کو زیادتی کا شکار بنانے والے درندے آزاد گھوم رہے ہیں

اور ان کے خوف کی وجہ سے بچے گلیوں میں کھیل نہیں سکتے لیکن عورت مارچ کو ایک مغربی ایجنڈا قرار دیا گیا ہے۔میشا شفیع نے ایک اور ٹوئٹ میں شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ایک ہی بار ساری عورتوں پر پابندی لگا دو، قصہ ہی ختم ہوجائے گا، نہ ہم رہیں گے، نہ تم۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…