ٹوئنکل کھنہ ملالہ یوسفزئی کی کہانی سن کر آبدیدہ

  جمعرات‬‮ 15 اکتوبر‬‮ 2020  |  14:06

ممبئی (این این آئی)بالی ووڈ اداکارہ ٹوئنکل کھنا کا کہنا ہے کہ وہ ملالہ یوسفزئی سے آن لائن انٹرویو کے دوران بات چیت کرتے ہوئے اْن کی متاثر کْن کہانی سْن کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہوگئی تھیں۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی اداکارہ کا کہنا ہےکہ جب وہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی دنیا کی کم عمر ترین نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی سے گفتگو کررہی تھیں تو اْن کی متاثر کْن اور سبق آموز کہانی نے انہیں رْلا دیا تھا۔ٹوئنکل کھنا نے حال ہی میں اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارم ٹوئیک انڈیا


پر ملالہ یوسف زئی کا انٹرویو لیا تھا۔ٹوئنکل کھنا نے بتایا کہ ملالہ کے ساتھ انٹرویو آڈیو ہونا تھا لیکن جب میں نے اسے سیٹ کیا تو وہ ویڈیو پر منتقل ہوگیا تھا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ جب ملالہ اپنی متاثر کْن کہانی سنا رہی تھیں تو وہ اپنے انسوؤں پر قابو نہیں رکھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں مَیں نے تیزی سے اپنے بال پیچھے کیے اور اپنی آنکھوں میں کاجل لگایا تاکہ میں تھوڑی بہتر دِکھ سکوں۔ٹوئنکل کھنا نے کہا کہ انٹرویو کے آخر میں مجھے اس بات سے فرق نہیں پڑا کہ ملالہ یوسفزئی کی کہانی نے مجھے آبدیدہ کردیا تھا۔ملالہ یوسفزئی نے انٹرویو میں خواتین کی خودمختاری، ان کے آگے بڑھنے اور آزادی میں مرد حضرات کا کردار کلیدی ہوتا ہے، کیوں کہ وہ بھی اپنے والد کیمدد سے ہی اس مقام پر پہنچی ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ جب انہیں نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا وہ اس وقت اسکول کی کلاس میں تھیں اور اْستانی نے آکر انہیں خوشخبری بتائی۔خیال رہے کہ پاکستان میں طالبان کے قاتلانہ حملے میں معجزانہ طور پر بچ جانے والی طالب علمملالہ یوسفزئی دنیا بھر میں تعلیم کے فروغ کیلئے کردار ادا کررہی ہیں، انہیں 2014 میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔واضح رہے کہ ملالہ پر 9 اکتوبر 2012 کو وادی سوات کے علاقے مینگورہ میں اسکول سے گھر جاتے ہوئے حملہ کیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں زخمی حالت میں پہلے پشاور لے جایا گیا اور بعد میں راولپنڈی کے اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ....مزید پڑھئے‎