جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کی اپیل کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2019 |

لاہور( آن لائن )لاہور ہائیکورٹ نے علی ظفر کے خلاف میشا شفیع کی اپیل کا تحریری تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میشا شفیع کا کیس ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون میں نہیں آتا۔لاہور ہائیکورٹ نے 11 اکتوبر کو گلوکارہ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے گورنر پنجاب کے احکامات کو چیلنج کیا تھا۔گورنر پنجاب نے گزشتہ سال میشا شفیع کی درخواست پر محتسب کے فیصلے کے خلاف

اپیل مسترد کر دی تھی۔ اپیل میں کہا گیا تھا کہ محتسب نے ‘تیکنیکی بنیادوں’ پر میشا شفیع کی درخواست مسترد کی تھی۔جس کے بعد میشا شفیع کے وکیل نے گورنر پنجاب کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ رجوع کیا تھا، تاہم لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے بھی گورنر پنجاب کا میشا شفیع کی ہراساں کرنے سے متعلق درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔رپورٹس کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے میشا شفیع کی اپیل پر 34 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔لاہور ہائیکورٹ نے گورنر پنجاب کے فیصلے کو برقرار رکھا اور قرار دیا کہ میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان مالک اور ملازم کا رشتہ نہیں تھا۔یاد رہے کہ میشا شفیع کی قانونی ٹیم نے جنسی ہراساں کرنے کی شکایت پنجاب کے صوبائی محتسب کے پاس ورک پلیس ایکٹ 2010 کی شق خواتین کو ہراساں ہونے سے بچانے کے تحت دائر کی تھی۔اس حوالے سے تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا کہ خواتین کے کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے قانون کا اطلاق صرف ادارے کے ملازم پر ہوتا ہے۔جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے ایک خود مختار خاتون کو ورکنگ وومن کی تعریف میں شامل کرنے کی استدعا کی جو قانون کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میشا شفیع نے اپنی شکایت میں یہ دعوی نہیں کیا تھا کہ وہ کمپنی کی سپروائزر یا ملازمہ تھی جس کے باعث ان کا کیس ورک پلیس ہراسمنٹ کے قانون میں نہیں آتا۔عدالت کے

فیصلے کے مطابق ورک پلیس ہراسمنٹ کا قانون ہر خاتون کیلئے نہیں ہے، یہ صرف ان خواتین کیلئے ہے جو کام کی جگہ پر ہراساگی کا شکار ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ رواں سال 19 اپریل کو میشا شفیع نے ایک ٹوئٹر پیغام میں علی ظفر پر جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘آج میں نے بولنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میرا ضمیر مجھے مزید خاموش رہنے کی اجازت نہیں دیتا، اگر ایسا کچھ میرے جیسے

کسی فرد یعنی ایک معروف آرٹسٹ کے ساتھ ہوسکتا ہے تو پھر کسی بھی نوجوان لڑکی کے ساتھ ایسا ہوسکتا ہے جو انڈسٹری میں آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اس نے مجھے بہت زیادہ فکرمند کردیا ہے’۔انہوں نے دعوی کیا تھا کہ انہیں علی ظفر کے ہاتھوں ایک سے زائد مرتبہ جسمانی طور پر جنسی ہراساں ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔دوسری جانب اسی روز علی ظفر نے میشا شفیع کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تردید کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…