پاکستان سے دشمنی میں شاہ رخ خان بھی پیچھے نہ رہے ایسی کیا حرکت کر ڈالی کہ پاکستانیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ،پاکستانی بھی خاموش نہ بیٹھے ،کھری کھری سنا دیں

  ہفتہ‬‮ 24 اگست‬‮ 2019  |  13:01

ممبئی(آن لائن) پاکستان سے نفرت میں مبتلا بالی ووڈ میں اب تک پاکستان اور مسلم مخالف کئی فلمیں بنائی جاچکی ہیں تاہم اب شاہ رخ خان بھی اپنا ڈوبتا کیرئیر بچانے کے لیے پاکستان دشمنی پر مبنی فلم کے ساتھ میدان میں آگئے۔ شاہ رخ خان نے ٹویٹر پر اپنی ’ریڈ چلی انٹرٹینمنٹ پروڈکشن‘ میں بننے والی مسلمانوں سے نفرت پر مبنی فلم ’ بارڈ آف بلڈ‘ کا ٹریلر جاری کیا ہے۔جس میں مسلمانوں کو دہشت گرد دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بنایا گیا ہے کیوں کہ اس کا اندازہ اس


بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے مسلم اداکار کا انتخاب کیا گیا ہے۔شاہ رخ خان کی ٹویٹ پر بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کنگ خان کے اس اقدام کو بچگانہ اور پاکستان دشمن قرار دیا۔ماہِ دوراں نامی شہری نے اپنی ٹوئٹ میں پاکستان بنانے پر قائد اعظم کا شکریہ ادا کیا اور شاہ رخ پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج شاہ رخ خان جیسے بزدل مسلمان جوکہ صرف اپنے پیسوں اور شہرت سے محبت کرتے ہیں، انہوں نے اس طرح کی فلم بنا کر ثابت کردیا کہ وہ حقیقی ہندو اور بھارتی منفی سوچ سے محبت کرتے ہیں۔ ایک اور صارف نے پاک بھارت کشیدہ صورتحال میں شاہ رخ خان اپنے آقاؤں کو خوش کر رہے ہیں، آپ نے جو نفرت کا اظہار کیا ہے اس کے لیے اس سے بہتر کوئی وقت نہیں ہوسکتا۔سعدیہ نامی صارف نے کہا کہ بالی ووڈ کی تمام تر فلمیں نفرت کے مواد پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف ہی نفرتی مواد کی تشہیر کے لیے مسلم اداکاروں کو استعمال کرتے ہیں اور یہ اْن لوگوں کے منہ پر طمانچا ہے جو ایسے لوگوں کے مداح ہیں۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

ایک قیمتی سوال

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎

چارلس ٹی میٹکلف  1785ءمیں کلکتہ میں پیدا ہوا تھا‘ والد ایسٹ انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر تھا اور کلکتہ میں تعینات تھا‘ چارلس نے لندن سے تعلیم حاصل کی اور 1801ءمیں واپس آ کر کمپنی کی نوکری کر لی‘ وہ بنگال کے گورنر جنرل لارڈ ویسلے کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا‘ برطانیہ اس وقت نپولین بونا پارٹ سے لڑ رہا ....مزید پڑھئے‎