ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

جاوید اختر ماضی کے مقبول گیتوں کے ری میک بنانے پر پھٹ پڑے

datetime 30  جون‬‮  2019 |

ممبئی(این این آئی) بالی ووڈ کے نامور شاعر اور اسکرپٹ رائٹر جاوید اختر ماضی کے مقبول گیتوں کے بھونڈے انداز میں ری میک بنانے پر پھٹ پڑے۔بالی ووڈ میں گزشتہ کچھ عرصے سے ماضی کے مقبول گیتوں کا ری میک بنانے کا ٹرینڈ چل پڑا ہے اورفلمساز شائقین کی توجہ اپنی فلموں کی جانب مبذول کرانے کے لیے سپر ہٹ گانوں کا ری میک بناکر فلم میں شامل کرتے ہیں، لیکن کئی بار یہ ری میک اتنے

بھونڈے انداز میں بنائے گئے ہوتے ہیں کہ اصل گانے کو بھی تباہ کردیتے ہیں اور لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں۔بالی ووڈ سے وابستہ کچھ افراد فلمسازوں کے اس عمل سے خوش نہیں ہیں جن میں جاوید اختر بھی شامل ہیں۔ حال ہی میں 1994 کی فلم ’’مہرا‘‘ کے سپر ہٹ گانے’’ٹپ ٹپ برسا پانی‘‘ کو ری میک کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ گانا اکشے کمار اورروینہ ٹنڈن پر فلمایا گیا تھا اور آج بھی لوگوں میں اتنا ہی مقبول ہے جتنا ماضی میں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہدایت کار روہت شیٹھی نے اپنی آنے والی فلم ’’سوریاونشی‘‘ میں اس گانے کو نئے انداز میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے اس بار بھی اکشے کمار پر فلمایا جائے گا لیکن روینہ کی جگہ کترینہ کیف گانے میں شامل ہیں۔جاوید اختر نے گانے کا ری میک بنانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس چیز کو بند ہوجانا چاہئے، میں اس طرح کے طرز عمل پر پہلے بھی قانونی ایکشن لے چکاہوں۔ میں نے ماضی میں فلم ’’پاپا کہتے ہیں‘‘ کہ مقبول گیت ’’گھر سے نکلتے ہی کچھ دور چلتے ہی‘‘ کو دوبارہ بنانے والوں کو قانونی نوٹس بھیجا تھا۔ بدقسمتی سے آنند بخشی صاحب (جنہوں نے ٹپ ٹپ برسا پانی گانا لکھاتھا) اب ہمارے درمیان نہیں ہیں جو احتجاج کرسکیں۔واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ماضی کے کئی مقبول گیتوں کے ری میک بنائے گئے ہیں جن میں ’’چھما چھما‘‘، ’’ایک دو تین‘‘،’’میں چیز بڑی ہوں مست‘‘، ’’دل ٹوٹے ٹوٹے ہوگیا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…