ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

مزاح نگار مشتاق یوسفی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے

datetime 20  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) معروف ادیب ومزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی پہلی برسی آج جمعرات کو منائی جا رہی ہے ۔مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923 کو جے پور راجستھان بھارت میں پیدا ہوئے، انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی،بعدازاں پاکستان بننے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کی اورپیشہ وارانہ ذمے داریوں کے دوران مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے،آپ بیتی سب ہی انداز شامل ہیں،جسے پڑھ کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کاگرویدہ نظرآتاہے،مشتاقی یوسفی اردومزاح نگاری میں اپنی جداگانہ تحریروں کی وجہ سے ہردورمیں مقبول رہے۔ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتاہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی،سیاسی،تہذیبی اورادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے۔مشتاق احمد یوسفی کے کل 5مجموعے شائع ہوئے جن میں چراغ تلے،خاکم بدہن، زرگزشت،آب گم اورشام شہریاراں شامل ہیں،ان ساری کتابوں نے اپنی تمام تر مزاحیہ چاشنی کے ساتھ اردوادب کے قارئین کو محسور کیے رکھا، ادب میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999 میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا۔علالت کے بعد 20 جون 2018 کو مشتاق احمد یوسفی اس جہان فانی کو خیرباد کہہ گئے تھے،ادیبوں،محققین اورادب کے دلدادہ افرادکے مطابق مشتاق احمدیوسفی اردو زبان وادب کا ایک ایسا ستارہ تھے،جوطویل عرصے تک عہدیوسفی بن کر تابندہ رہے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…