منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

مزاح نگار مشتاق یوسفی کی پہلی برسی آج منائی جا رہی ہے

datetime 20  جون‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) معروف ادیب ومزاح نگار مشتاق احمد یوسفی کی پہلی برسی آج جمعرات کو منائی جا رہی ہے ۔مشتاق احمد یوسفی 4 ستمبر 1923 کو جے پور راجستھان بھارت میں پیدا ہوئے، انھوں نے علی گڑھ یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری لی،بعدازاں پاکستان بننے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کی اورپیشہ وارانہ ذمے داریوں کے دوران مختلف بینکوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔

مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں میں انشائیے، خاکے،آپ بیتی سب ہی انداز شامل ہیں،جسے پڑھ کر اردو زبان کے مزاحیہ ادب کا ہر قاری مشتاق احمد یوسفی کاگرویدہ نظرآتاہے،مشتاقی یوسفی اردومزاح نگاری میں اپنی جداگانہ تحریروں کی وجہ سے ہردورمیں مقبول رہے۔ادب سے وابستہ افراد کے مطابق مشتاق احمد یوسفی کی تحریروں کے مطالعے سے یہ پتہ چلتاہے کہ ان کی تحریروں میں ماضی کی حسین یادوں کے ساتھ سماجی،سیاسی،تہذیبی اورادبی ہررنگ کی جھلک ملتی ہے۔مشتاق احمد یوسفی کے کل 5مجموعے شائع ہوئے جن میں چراغ تلے،خاکم بدہن، زرگزشت،آب گم اورشام شہریاراں شامل ہیں،ان ساری کتابوں نے اپنی تمام تر مزاحیہ چاشنی کے ساتھ اردوادب کے قارئین کو محسور کیے رکھا، ادب میں نمایاں خدمات پر حکومت پاکستان نے انھیں 1999 میں ستارہ امتیاز جبکہ 2002 میں ہلال امتیاز سے نوازا۔علالت کے بعد 20 جون 2018 کو مشتاق احمد یوسفی اس جہان فانی کو خیرباد کہہ گئے تھے،ادیبوں،محققین اورادب کے دلدادہ افرادکے مطابق مشتاق احمدیوسفی اردو زبان وادب کا ایک ایسا ستارہ تھے،جوطویل عرصے تک عہدیوسفی بن کر تابندہ رہے گا۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…