منگل‬‮ ، 03 مارچ‬‮ 2026 

پاکستانی آرٹ کا خزانہ، جمیل نقش لندن میں انتقال کر گئے

datetime 16  مئی‬‮  2019 |

کراچی( آن لائن ) پاکستانی آرٹ کے عظیم خزانوں میں سے ایک اور دورحاضر کے بے مثل فنکار، جمیل نقش برطانیہ کے سینٹ میری ہسپتال میں انتقال کر گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ جمیل نقش سنہ 1939ء میں بھارت کے شہر کیرانہ میں پیدا ہوئے اور تقسیم ہند کے دوران ہجرت کرکے کراچی

آگئے۔ گزشتہ برسوں کے دوران، ان کے قدرتی وجدان اور تخلیقی صلاحیتوں نے انہیں متعدد مسحور کن تصاویر کا خالق بنا دیا۔اپنی خوش نویسی، کبوتروں اور علامتی تصاویرکے باعث قومی اور بین الاقوامی سطح پر معروف جمیل نقش نے اپنی زندگی میں غیر معمولی تعریف و توصیف حاصل کی۔ ان کا کام لاکھوں افراد کے لیے دہائی کے زیادہ حصے تک علم کا ذریعہ بنا رہا ہے۔دنیا بھر میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر جمیل نقش کو سنہ 1989ء میں تمغہ برائے حسن کارکردگی اور سنہ 2009ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔وہ سنہ 2003ء میں نجمی سورہ کے ہمراہ کراچی سے لندن منتقل ہو گئے۔جمیل نقش میوزیم کی ڈائریکٹر پی آر اینڈ کمیونیکیشن، شہنیلا احمد نے اس سانحہ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:’’جمیل نقش کے اہل خانہ نہایت بوجھل دل کے ساتھ اس قابل احترام شخصیت کی دنیا سے رحلت کا اعلان کرتے ہیں۔ایک ایسا فنکار جو ہمیشہ اپنی بنیادں اور ثقافت کے ساتھ جڑا رہا ۔ ان کے فن کا ہرنمونہ بذات خود ایک کہانی ہے۔ ہم آپ سے ان کے لیے دعا کی درخواست کرتے ہیں۔‘‘جمیل نقش کو ، نمونیہ کے علاج کے لیے، لندن کے سینٹ میری ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ڈاکٹروں نے اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ہر ممکن کوشش کی لیکن جمیل نقش جانبر نہ ہو سکے اور اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں خالق حقیقی سے جا ملے۔



کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…