پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

مجھے ’’ریپ‘‘ دکھا کر فلم فروخت کرنے کی ضرورت نہیں، روہت شیٹھی

datetime 6  جنوری‬‮  2019 |

ممبئی (این این آئی)فلم ساز روہت شیٹھی کی گزشتہ ماہ 27 دسمبر کو ریلیز ہونے والی ایکشن رومانٹک فلم ’سمبا‘ اگرچہ ایک ہی ہفتے میں دنیا بھر سے 200 کروڑ کمانے میں کامیاب گئی۔تاہم فلم کی کہانی کی وجہ سے اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔جہاں فلم کے ٹریلر میں اجے دیوگن اور ’گول مال‘ ٹیم کو دکھائے جانے پر رنویر سنگھ بھی روہت شیٹھی پر ناراض ہوئے تھے، وہیں اب مداحوں اور

تنقید نگاروں نے بھی فلم ساز کو کہانی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔’سمبا‘ کی کہانی ایک نوجوان لڑکی کے ریپ اور اس کے قتل کے گرد گھومتی ہے، جو لاوارث بچوں کو تعلیم دیتی ہیں اور وہ رنویر سنگھ کی منہ بولی بہن بھی ہوتی ہیں۔’سمبا‘ تیلگو زبان میں ریلیز ہونے والی فلم ’ٹیمپر‘ کا ہندی ریمیک ہے اور اس میں بھی بھارت کی متعدد فلموں کی طرح ریپ کی کہانی دکھائی گئی، جس پر مداح اور تنقید نگار فلم ساز سے ناراض ہوئے۔فلم میں ریپ کی کہانی دکھائے جانے پر ہونے والی تنقید پر اب روہت شیٹھی نے خاموشی توڑتے ہوئے مخالفین کو کرارا جواب دیا۔انڈیا ٹوڈے کے مطابق روہت شیٹھی کا ’سمبا‘ میں ریپ دکھانے پر کہنا تھا کہ ان کی فلم کوئی واحد فلم نہیں، جس میں اس طرح کی کہانی دکھائی گئی ہو، تاہم ان کی فلم میں اس کہانی کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا۔روہت شیٹھی کا کہنا تھا کہ ان کی فلم میں ریپ کا سین ہونے کے باوجود سینسر بورڈ نے کوئی بھی سوال اٹھائے بغیر ان کی فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فلم میں کوئی غلط منظر نہیں تھا۔ہدایت کار نے فخر کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ کیریئر کی اس اسٹیج پر موجود ہیں، جہاں انہیں فلموں میں ’ریپ‘ دکھا کر انہیں فروخت کرنے کی ضرورت نہیں۔روہت شیٹھی کے مطابق اگرچہ انہیں فلم کو کامیاب بنانے کے لیے اس میں ریپ کی کہانی ڈالنے کی ضرورت نہیں، تاہم سمبا میں انہوں نے ریپ کی کہانی کو ایک پولیس انسپکٹر کے پروفیشن سے جوڑا ہے اور یہ ان کی بطور ہدایت کار تخلیقی صلاحیت ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…