جمعرات‬‮ ، 05 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان کا سپاہی ہوں ، کسی چیز کی حوس نہیں نہ ہی وزارتیں میرے لیے کوئی اہمیت رکھتی ہیں : عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا ہے کہ عمران خان کا سپاہی ہوں ، کسی چیز کی حوس نہیں اور نہ ہی وزارتیں میرے لیے کوئی اہمیت رکھتی ہیں ،تحریک انصاف کے لئے ترانہ بنایا جو خدا کے فضل سے آج بچے بچے کی زبان پر ہے ۔انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ جب میں نے گانے کا آغاز کیا تو ہمارے علاقے میں گانے کا رواج نہیں تھا ۔

میرے والد سخت مزاج تھے البتہ والدہ راضی تھیں ۔ میں نے بنیادی طورپر کسی سے گانا نہیں سیکھا اور نہ ہی کسی کو دیکھ کر مجھے گانے کا شوق پیدا ہوا بلکہ بچپن سے ہی گنگناتا تھا اور سکول میں میرے اساتذہ مجھے قومی ترانہ پیش کرنے کے لئے کہتے تھے اور میں قومی ترانہ سنایا کرتا تھا ۔ مجھے گانے کی اے بی سی بھی نہیںآتی ، آج بھی سیکھ رہا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی معنوں میں مجھے شہرت 1978ء میں فیصل آباد کی کیسٹ کمپنی نے میرا گانا ’’دل لگایا تھا دل لگی کے لئے بن گیا روگ زندگی کے لئے ‘‘سے ملی اور پھر قمیض تیری کالی نے تہلکہ مچا دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں واحد گلوکار ہوں جس کی سب سے زیادہ کیسٹیں پاکستان میں ریکارڈ ہوئی ہیں۔ میں نے ٹرک ڈرائیوری بھی کی اور بڑی محنت سے موجودہ مقام تک پہنچا ہوں ۔عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے کہا کہ میری عمران خان کے ساتھ 35سالوں سے وابستگی ہے ۔میں نے دنیا کے بے شمار ترقی یافتہ ممالک دیکھے ہیں جو دو کلو آلو پیدا نہیں کر سکتے مگر وہ ترقی کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہیں ۔ جبکہ ہمیں خدا نے بے شمار قدرتی وسائل دے رکھے ہیں مگر ہم ان سے پیچھے ہیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس لیڈر نہیں تھا جو اب عمران خان کی شکل میں مل گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی تو میں نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا کہ عمران خان سیاست میں آگئے ہیں اور اب میں ان کے لئے کیا کر سکتا ہوں ۔جس پر اہلیہ نے مشورہ دیا کہ آپ ان کیلئے ترانہ بنائیں اور خدا کے فضل سے وہ اس قدر مقبول ہوا جو آج بھی بچے بچے کی زبان پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ نہ مجھے اور نہ عمران خان کو مال کی حوس ہے ۔ یہ خدا کی ذات کا سب سے بڑا احسان ہے ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میاں جہاں پر ہوں خوش ہوں ، وزارتیں میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ، عمران خان کا سپاہی تھا اور سپاہی ہوں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کلچر کی بحالی کی طرف توجہ دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عربوں کا کیا قصورہے؟


ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…