منگل‬‮ ، 20 جنوری‬‮ 2026 

میری زندگی ایک پریوں کی کہانی سے کم نہیں : اداکارہ شیفالی جاری والا

datetime 25  ستمبر‬‮  2018 |

ممبئی (شوبز ڈیسک)2002 میں مشہورِ زمانہ گانا ’کانٹا لگا‘ سے شہرت پانے والی بھارتی ڈانسر اور اداکارہ شیفالی جاری والا کا کہنا ہے کہ ایک اور ’کانٹا لگا’ گرل کبھی نہیں ہوسکتی۔ شیفالی جاری والا کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھتی ہوں کہ ہر اداکار اپنی ایک منفرد پہچان بنانے کی کوشش کرتا ہے اور میرے پہلے گانے نے میرے لیے یہی کیا، ایک اور کانٹا لگا گرل کبھی نہیں ہوسکتی۔

اور مجھے یہ گانا بہت پسند ہے۔اپنے پہلے گانے کے بعد کی زندگی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ میری زندگی ایک پریوں کی کہانی سے کم نہیں، متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو پہلی ہی مرتبہ میں اتنی پہچان مل جائے تو یہ کسی پرنس چارمنگ مل جانے سے کم نہیں تھا۔انہوں نے بتایا کہ اکثر لوگوں نے بولڈ اسٹیپس کرنے پر ان پر تنقید بھی کی تھی، شیفالی یہ سمجھتی ہیں کہ آج کے مداح پہلے کے مقابلے میں کم تنگ نظر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’ اب زیادہ افراد ایسے ہیں جو بولڈ مواد کو قبول کررہے لیکن ہمیشہ کچھ ایسے لوگ موجود رہیں گے جنہیں کچھ چیزیں فحش معلوم ہوں گی ، ہم انہیں بدل نہیں سکتے، ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر شخص کو اظہار کی آزادی حاصل ہے۔شیفالی جاری والا کے مداحوں کے لیے یہ خوش آئند ہوگا کہ وہ ایک بولڈ کامیڈی ویب سیریز ’بے بی کم نا‘ سے اداکاری کی دنیا میں واپس لوٹ رہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ’جب مجھے بے بی کم نا کی آفر کی گئی تھی ، میں اس کے اسکرپٹ سے بہت متاثر ہوئی کہ مجھے اسے پرفارم کرنے کے لیے اپنی تمام ہمت جمع کرنی پڑی تھی ورنہ اس میں میرا ہی نقصان ہونا تھا۔انہوں نے کہاکہ اسکرپٹ کے ساتھ ساتھ باقی تمام سیٹ اپ بھی لاجواب تھا۔بے بی کم نا‘ نامی ویب سیریز کی ہدایات فرہاد سامجی نے دی ہیں جبکہ چنکی پانڈے، کیکو شردا اور شریاس تالپڈے اس ویب سیریز میں اداکاری کرتے دکھائی دیں گے۔شیفالی کا کہنا تھا کہ میں جانتی تھی کہ مجھے آلٹ بالاجی جیسے بڑے پلیٹ فارم سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا، میرے پاس انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ویب سیریز اور اپنے کردار سے متعلق انہوں نے بتایا کہ یہ کہانی ایک لڑکے آدی (شریاس) اور اس کی گرل فرینڈ (شیفالی) پر مبنی ہے، جو ایک ڈیڈیز گرل ہے اور آدی کی محبت میں مبتلا ہے۔واضح رہے کہ کئی سال قبل شیفالی نے 2004 میں فلم مجھ سے شادی کرو گی میں جلوہ گر ہوئیں تھیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…