اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،
جس کے باعث گھریلو صارفین کے اخراجات بڑھنے کا خدشہ ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں ایل پی جی کی فی کلو قیمت 600 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گھریلو سلنڈر 7 ہزار 200 روپے میں فروخت ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں میں بھی ایل پی جی کے نرخ 500 سے 600 روپے فی کلو کے درمیان بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم، ان اعداد و شمار کی مکمل وضاحت موجود نہیں کہ آیا یہ فی کلو گیس کی قیمتیں ہیں یا قیمتوں میں ہونے والے اضافے کی مقدار۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق لاہور میں گھریلو استعمال کا ایل پی جی سلنڈر 7 ہزار 200 روپے تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ قیمتیں درست ثابت ہوتی ہیں تو اس کا سب سے زیادہ اثر محدود آمدنی والے خاندانوں پر پڑ سکتا ہے، جو کھانا پکانے سمیت روزمرہ ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت 279 روپے فی کلو مقرر کی تھی، جبکہ گھریلو سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 350 روپے بتائی گئی ہے۔
سرکاری نرخوں کے مقابلے میں مارکیٹ میں سامنے آنے والی قیمتوں میں نمایاں فرق دکھائی دیتا ہے۔ تاہم، اصل صورت حال واضح کرنے کے لیے سرکاری قیمتوں اور مختلف علاقوں میں گیس کی فروخت کے نرخوں کی تصدیق ضروری ہے۔
ایل پی جی کی مہنگی فروخت اور مقررہ نرخوں سے زیادہ رقم وصول کیے جانے کی شکایات صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں۔ شہریوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کی جانب سے مارکیٹ کی نگرانی اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانا اہم ہے۔
ملک کے متعدد علاقوں میں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہ ہونے کے باعث لوگ گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں اس ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست گھریلو بجٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔



















































