لاہور (این این آئی)سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال کے باعث پروازوں کے شیڈول متاثر ہونے سے مسافروں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
دستیاب معلومات کے مطابق رواں سال جنوری تا ستمبر علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 200سے زائد پروازیں منسوخ جبکہ 350سے زائد پروازیں 2سے 12گھنٹے کی تاخیر کا شکار ہوئیں۔ پروازوں کی منسوخی اور تاخیر کے باعث علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافروں کے احتجاج کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔پاکستان ایئرپورٹس کے ذرائع کے مطابق خطے میں کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باوجود علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز کے ذریعے اندرون اور بیرون ملک سفر جاری ہے۔ رواں سال جنوری سے ستمبر تک لاہور ایئرپورٹ سے تقریباً 48لاکھ مسافروں نے سفر کیا، جن میں 35لاکھ بین الاقوامی اور 12 لاکھ مقامی مسافر شامل ہیں جبکہ 2025ء میں مجموعی طور پر 68لاکھ 60ہزار مسافروں نے اس ایئرپورٹ سے سفر کیا تھا۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حکام کے مطابق مون سون سیزن میں پرندوں کی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث 5جولائی سے 15ستمبر تک دونوں رن وے روزانہ صبح 5سے 8بجے تک بند رکھے گئے۔ جولائی کے دوران 3لاکھ98ہزار 400مسافروں نے سفر کیا جبکہ 1020شیڈول پروازوں میں سے 96منسوخ اور 326تاخیر کا شکار ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق پروازوں میں تاخیر کے دوران مسافروں کو بروقت کھانے اور ہوٹل کی سہولیات فراہم نہ کیے جانے پر ایئرپورٹ پر احتجاج کیا گیا اور شدید نعرے بازی ہوئی۔ حالات پر قابو پانے کے لیے ایئرپورٹ سکیورٹی فورس کے اہلکاروں کو طلب کرنا پڑا۔ احتجاج کرنے والوں میں عمرہ زائرین کی بڑی تعداد شامل تھی، جن کے مطابق پروازوں میں تاخیر کے باعث کسی کا ایک دن تو کسی کے دو دن ضائع ہوئے۔دوسری جانب یمن کی سرحد کے قریب حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے جازان، نجران اور ابہا ایئرپورٹس پر حملوں کے تناظر میں لاہور سے جدہ اور ریاض جانے والی پروازوں کے روٹس تبدیل کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث سفر کا دورانیہ 30 سے 45منٹ تک بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پی آئی اے سمیت ملکی و غیر ملکی ایئرلائنز نے لاہور سے ریاض جانے والی پروازیں بھی منسوخ کر رکھی ہیں اور گزشتہ ایک ہفتے سے ریاض کے لیے کوئی پرواز آپریٹ نہیں ہو رہی۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث بھی متعدد پروازیں منسوخ اور کئی کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئیں۔ اس صورتحال سے ایئرلائنز کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ مسافروں کو بھی سفری مشکلات اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔



















































