اسلام آباد (نیوز ڈیسک) 10 روپے کے کرنسی نوٹ کے مستقبل میں استعمال کے حوالے سے اہم تجویز سامنے آگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے کم مالیت کے اس نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ رائج کرنے کی سفارش کی ہے، جس کی بڑی وجہ نوٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت بتائی گئی ہے۔
یہ تجویز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں زیر بحث آئی۔ اجلاس میں مرکزی بینک کے حکام نے بتایا کہ 10 روپے کے نوٹ کی طباعت پر آنے والا خرچ اس کی مالیت کے مقابلے میں زیادہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مستقبل میں اس مالیت کے نوٹ کی چھپائی روکنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے کمیٹی ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کم مالیت کے کرنسی نوٹ کی تیاری معاشی اعتبار سے زیادہ مؤثر نہیں رہی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے 10 روپے کی مالیت کو سکے کی شکل میں جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مرکزی بینک کے حکام کے مطابق سکے عام طور پر کاغذی نوٹ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک قابل استعمال رہتے ہیں۔ اس لیے کم مالیت کی کرنسی کے لیے سکے کا استعمال کیا جائے تو بار بار نئے نوٹ چھاپنے پر آنے والے اخراجات میں کمی ممکن ہے۔
تاہم اس تجویز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ موجودہ 10 روپے کے تمام نوٹ فوری طور پر مارکیٹ سے واپس لے لیے جائیں گے۔ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے اس تجویز کی منظوری دی جاتی ہے تو پرانے نوٹوں کے حوالے سے طریقہ کار اور ٹائم لائن بعد میں طے کی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک پہلے بھی 10 روپے مالیت کا سکہ متعارف کرا چکا ہے، تاہم اس کا استعمال عوامی سطح پر اس طرح فروغ نہیں پا سکا جس کی توقع کی گئی تھی۔
فی الحال 10 روپے کے موجودہ نوٹ کے بارے میں شہریوں کو کسی فوری تبدیلی یا پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔ اس کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی منظوری اور آئندہ پالیسی طے ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔
یوں 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کو ترجیح دینے کی تجویز کا بنیادی مقصد کرنسی کی تیاری کے اخراجات کم کرنا، سکے کی طویل مدت تک استعمال کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا اور مالیاتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔



















































