منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

دس روپے کا نوٹ بند کرنے کی اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 28  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) 10 روپے کے کرنسی نوٹ کے مستقبل میں استعمال کے حوالے سے اہم تجویز سامنے آگئی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے کم مالیت کے اس نوٹ کی جگہ 10 روپے کا سکہ رائج کرنے کی سفارش کی ہے، جس کی بڑی وجہ نوٹ کی تیاری پر آنے والی لاگت بتائی گئی ہے۔

یہ تجویز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں زیر بحث آئی۔ اجلاس میں مرکزی بینک کے حکام نے بتایا کہ 10 روپے کے نوٹ کی طباعت پر آنے والا خرچ اس کی مالیت کے مقابلے میں زیادہ ہو رہا ہے، جس کے باعث مستقبل میں اس مالیت کے نوٹ کی چھپائی روکنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر عنایت حسین نے کمیٹی ارکان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کم مالیت کے کرنسی نوٹ کی تیاری معاشی اعتبار سے زیادہ مؤثر نہیں رہی۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے 10 روپے کی مالیت کو سکے کی شکل میں جاری رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مرکزی بینک کے حکام کے مطابق سکے عام طور پر کاغذی نوٹ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک قابل استعمال رہتے ہیں۔ اس لیے کم مالیت کی کرنسی کے لیے سکے کا استعمال کیا جائے تو بار بار نئے نوٹ چھاپنے پر آنے والے اخراجات میں کمی ممکن ہے۔

تاہم اس تجویز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ موجودہ 10 روپے کے تمام نوٹ فوری طور پر مارکیٹ سے واپس لے لیے جائیں گے۔ اگر متعلقہ حکام کی جانب سے اس تجویز کی منظوری دی جاتی ہے تو پرانے نوٹوں کے حوالے سے طریقہ کار اور ٹائم لائن بعد میں طے کی جائے گی۔

اسٹیٹ بینک پہلے بھی 10 روپے مالیت کا سکہ متعارف کرا چکا ہے، تاہم اس کا استعمال عوامی سطح پر اس طرح فروغ نہیں پا سکا جس کی توقع کی گئی تھی۔

فی الحال 10 روپے کے موجودہ نوٹ کے بارے میں شہریوں کو کسی فوری تبدیلی یا پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔ اس کے مستقبل سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ حکام کی منظوری اور آئندہ پالیسی طے ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

یوں 10 روپے کے نوٹ کی جگہ سکے کو ترجیح دینے کی تجویز کا بنیادی مقصد کرنسی کی تیاری کے اخراجات کم کرنا، سکے کی طویل مدت تک استعمال کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا اور مالیاتی نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…