جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

بجلی صارفین پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاری، بجلی مہنگی ہونے کا امکان

datetime 28  اگست‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بجلی صارفین کے لیے ایک اور تشویشناک خبر سامنے آگئی، جولائی کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخ میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے بجلی کی قیمت بڑھانے کے لیے اپنی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔

سی پی پی اے نے اپنی درخواست میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کی سفارش کی ہے۔ درخواست پر نیپرا میں آج سماعت ہوگی، جس کے دوران بجلی کی پیداوار اور ایندھن کے اخراجات سمیت متعلقہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا۔

دستاویزات کے مطابق جولائی کے دوران ڈیزل سے بجلی کی پیداوار پر فی یونٹ لاگت تقریباً 50 روپے رہی۔ اسی عرصے میں درآمدی کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 54 روپے 47 پیسے فی یونٹ ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق درآمدی ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی۔ سی پی پی اے نے انہی پیداواری اخراجات اور دیگر متعلقہ اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت نرخ بڑھانے کی درخواست کی ہے۔

نیپرا سماعت کے دوران سی پی پی اے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار اور بجلی کی پیداوار پر آنے والے اخراجات کی جانچ کرے گا۔ ریگولیٹر کی جانب سے تفصیلی جائزے کے بعد ہی اضافے کی حتمی منظوری یا درخواست میں تبدیلی سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل نیپرا جون 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 75 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے چکا ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق ملک بھر کے صارفین، بشمول کے الیکٹرک کے صارفین، پر کیا گیا تھا، جبکہ اضافی رقم اگست کے بجلی بلوں میں وصول کی جانی تھی۔

نیپرا کے ریکارڈ کے مطابق جون میں بجلی کے حقیقی فیول چارجز 8 روپے 46 پیسے فی یونٹ رہے، جبکہ ریفرنس فیول چارج 7 روپے 71 پیسے فی یونٹ مقرر تھا۔ دونوں نرخوں کے درمیان فرق کی بنیاد پر ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا تعین کیا گیا تھا۔

اب جولائی کی ایڈجسٹمنٹ سے متعلق نیپرا کی سماعت کے بعد صورتحال واضح ہوگی کہ سی پی پی اے کی جانب سے مانگا گیا 2 روپے 52 پیسے فی یونٹ اضافہ مکمل طور پر منظور ہوتا ہے یا اتھارٹی جائزے کے بعد اس میں کمی بیشی کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…