جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

گاڑیوں کی رجسٹریشن اور انشورنس نظام تبدیل، نئے قواعد کی منظوری

datetime 5  اگست‬‮  2026 |

کراچی (نیوز ڈیسک)سندھ حکومت نے گاڑیوں کی رجسٹریشن، موٹر ٹیکس اور تھرڈ پارٹی انشورنس کے نظام میں اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے۔

ان نئے اقدامات کا مقصد رجسٹریشن کے عمل کو جدید، شفاف اور مؤثر بنانا، عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور غیر فعال گاڑیوں کا درست ریکارڈ مرتب کرنا ہے۔

یہ فیصلے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے، جہاں گورننس، انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت، مزدوروں کی فلاح اور معاشی اصلاحات سمیت 20 سے زائد نکات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ ایکسائز کی پیش کردہ تجاویز کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

نئے قواعد کے مطابق ایسی گاڑیاں جو مستقل طور پر تباہ، ناکارہ یا استعمال سے باہر ہو چکی ہیں، ان کے مالکان کو 30 ستمبر 2026 تک تحریری اعلامیہ جمع کرانا ہوگا۔ اس کے علاوہ وہ گاڑیاں جن پر جولائی 2010 سے موٹر وہیکل ٹیکس ادا نہیں کیا گیا اور نہ ہی متعلقہ اعلامیہ جمع کرایا گیا، انہیں آف روڈ تصور کیا جائے گا۔

کابینہ کے فیصلے کے مطابق آف روڈ قرار دی جانے والی گاڑیوں کے مالکان اگر بقایا واجبات مقررہ مدت میں ادا نہ کریں تو پہلے 30 روز بعد ان کی رجسٹریشن معطل کر دی جائے گی، جبکہ مزید 60 روز تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں رجسٹریشن مکمل طور پر منسوخ کر دی جائے گی۔

اصلاحات کے تحت موٹر ڈیلرز کو بھی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ اب رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ ڈیلرز فروخت کی غرض سے حاصل کی گئی گاڑیاں فوری رجسٹریشن کے بغیر اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ اس کی ابتدائی مدت چھ ماہ ہوگی، جس میں دو مرتبہ تین، تین ماہ کی توسیع دی جا سکے گی، تاہم مجموعی مدت ایک سال سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اس دوران ہر گاڑی کے لیے صرف 100 روپے رپورٹنگ فیس ادا کرنا ہوگی، جبکہ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے موٹر ڈیلر کا لائسنس فعال ہونا ضروری ہوگا۔

صوبائی کابینہ نے موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس (MTPI) سے متعلق بھی نئی پالیسی کی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت اگر گاڑی کی ملکیت تبدیل ہو جائے تو موجودہ انشورنس اپنی مدت پوری ہونے تک برقرار رہے گی، جس سے نئے مالک کو فوری طور پر نئی انشورنس کرانے کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اضافی اخراجات میں کمی آئے گی۔

حکام کے مطابق ان اصلاحات کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (CDC) اور انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی اصولی حمایت بھی حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے عوامی سہولت میں اضافہ، نظام میں شفافیت اور انتظامی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…