اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی ترسیل متاثر ہونے اور قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہی تو ایل پی جی کی قیمت 540 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 750 ڈالر فی ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔یونانی شپنگ سینٹر کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش سے بین الاقوامی بحری تجارت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یورپ سے ایشیا جانے والے کئی جہازوں کو بحیرہ روم میں روک دیا گیا ہے جبکہ تجارتی بحری جہازوں کو نہرِ سوئز میں داخل نہ ہونے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں موجود متعدد جہازوں نے اپنی لوکیشن سسٹم بند کر دیے ہیں۔ اندازہ ہے کہ اس وقت خلیج فارس میں تقریباً ڈیڑھ سو آئل ٹینکرز اور کارگو بحری جہاز موجود ہو سکتے ہیں۔ یہاں نہ صرف امریکا اور اسرائیل بلکہ دنیا کے مختلف ممالک کے جہاز بھی آتے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں پھنسے جہازوں اور ان کے عملے کو سکیورٹی خطرات لاحق ہیں، جبکہ بحیرہ روم اور خلیج فارس میں رکے ہوئے جہازوں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے کے ذریعے منتقل کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کے لگ بھگ 20 فیصد خام تیل کی سپلائی اسی گزرگاہ سے ہوتی ہے، جبکہ عالمی ایل این جی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔



















































