منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

روایتی اسٹامپ پیپرز ختم؛ حکومت نے نیا نظام نافذ کر دیا

datetime 29  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں اسٹامپ پیپرز میں جعلسازی کے خاتمے کے لیے ای اسٹیمپنگ سسٹم مؤثر انداز میں نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فیڈرل ٹریژری کی جانب سے روایتی اسٹامپ پیپرز کی مزید فراہمی روک دی گئی ہے۔ البتہ جو اسٹامپ پیپرز پہلے سے جاری ہو چکے ہیں، انہیں ان کی میعاد ختم ہونے تک قابلِ استعمال رکھا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے مطابق ای اسٹیمپنگ منصوبے کے تحت اب تک 585 چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس نظام کے نفاذ سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اسٹامپ پیپرز سے متعلق مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ بھی محفوظ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ شہری اب پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے ای اسٹیمپ کی تصدیق باآسانی کر سکتے ہیں، جس سے جعلسازی کے خدشات میں نمایاں کمی آئے گی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ای اسٹیمپنگ کے نفاذ سے سرکاری نظام میں سہولت اور اعتماد کو فروغ ملے گا، جبکہ عوام کو بھی زیادہ محفوظ اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…