اسلام آباد (نیوز ڈیسک)رمضان المبارک سے پہلے ہی منافع خوری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جبکہ سستی گندم دستیاب ہونے کے باوجود آٹا عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ میرپورخاص میں آٹے کی قیمت 130 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق میرپورخاص میں فلور مل مالکان اور گندم مافیا نے رمضان سے قبل اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ سبسڈی کی موجودگی کے باوجود محکمہ فوڈ کی مبینہ ملی بھگت سے آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔محکمہ فوڈ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنوری کے دوران میرپورخاص ریجن کی فلور ملوں کو مجموعی طور پر 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن فلور ملوں اور 6 ہزار میٹرک ٹن چکی مالکان کے لیے مختص ہے۔
تاہم الزام ہے کہ یہ کوٹہ فعال یونٹس کے بجائے بند یا غیر فعال ملوں اور چکیوں کو دے دیا جاتا ہے، جو بعد ازاں یہ گندم ضلع سے باہر فروخت کر دیتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کئی آپریشنل فلور ملیں اور چکی مالکان بھی اپنے کوٹے کا بڑا حصہ، تقریباً 80 فیصد، بیرونِ ضلع زیادہ قیمت پر فروخت کر کے دوہرا منافع کما رہے ہیں۔ باقی بچنے والی گندم سے تیار کیا گیا آٹا بھی 120 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو مارکیٹ میں جا کر 130 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ایسی صورتحال میں مقامی دکانداروں کو بھی ضلع سے باہر سے مہنگا آٹا منگوانا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جب گندم 80 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے تو عوام کو 130 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور کرنا سراسر ناانصافی ہے۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جب تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئے گی، تب تک مافیا بھاری منافع سمیٹ چکی ہوگی اور بعد میں محض رسمی کارروائیاں اور اعلانات ہی سامنے آئیں گے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سخت نگرانی کرتے ہوئے سستا آٹا فراہم کیا جائے تاکہ انہیں رمضان سے قبل حقیقی ریلیف مل سکے۔















































