منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

رمضان سے قبل ڈبل منافع خوری، آٹا 130 روپے کلو فروخت ہونے لگا

datetime 22  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)رمضان المبارک سے پہلے ہی منافع خوری کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے، جبکہ سستی گندم دستیاب ہونے کے باوجود آٹا عوام کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ میرپورخاص میں آٹے کی قیمت 130 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ذرائع کے مطابق میرپورخاص میں فلور مل مالکان اور گندم مافیا نے رمضان سے قبل اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ سبسڈی کی موجودگی کے باوجود محکمہ فوڈ کی مبینہ ملی بھگت سے آٹا مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ سستا آٹا فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔محکمہ فوڈ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق جنوری کے دوران میرپورخاص ریجن کی فلور ملوں کو مجموعی طور پر 20 ہزار میٹرک ٹن گندم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس میں سے 14 ہزار میٹرک ٹن فلور ملوں اور 6 ہزار میٹرک ٹن چکی مالکان کے لیے مختص ہے۔

تاہم الزام ہے کہ یہ کوٹہ فعال یونٹس کے بجائے بند یا غیر فعال ملوں اور چکیوں کو دے دیا جاتا ہے، جو بعد ازاں یہ گندم ضلع سے باہر فروخت کر دیتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق کئی آپریشنل فلور ملیں اور چکی مالکان بھی اپنے کوٹے کا بڑا حصہ، تقریباً 80 فیصد، بیرونِ ضلع زیادہ قیمت پر فروخت کر کے دوہرا منافع کما رہے ہیں۔ باقی بچنے والی گندم سے تیار کیا گیا آٹا بھی 120 روپے فی کلو میں فروخت کیا جا رہا ہے، جو مارکیٹ میں جا کر 130 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ایسی صورتحال میں مقامی دکانداروں کو بھی ضلع سے باہر سے مہنگا آٹا منگوانا پڑ رہا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ جب گندم 80 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہے تو عوام کو 130 روپے فی کلو آٹا خریدنے پر مجبور کرنا سراسر ناانصافی ہے۔شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جب تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ حرکت میں آئے گی، تب تک مافیا بھاری منافع سمیٹ چکی ہوگی اور بعد میں محض رسمی کارروائیاں اور اعلانات ہی سامنے آئیں گے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سخت نگرانی کرتے ہوئے سستا آٹا فراہم کیا جائے تاکہ انہیں رمضان سے قبل حقیقی ریلیف مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…