جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

حکومت کا آئندہ سال سے بند مقامی گیس کے کنویں کھولنے کا فیصلہ

datetime 19  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)قطر اضافی سرپلس ایل این جی کارگوز منسوخ کرنے پر رضا مند ہوگیا جس کے باعث وفاقی حکومت نے جنوری 2026 سے بند مقامی گیس کے کنویں کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے،بند گیس فیلڈ سے مقامی گیس جنوری سے سسٹم میں آنا شروع ہو جائے گی۔گیس فیلڈز کو سرپلس ایل این جی گارگوز استعمال کے لیے بند کیا گیا تھا اور قطر 2026 کے لیے 24ایل این جی کارگوز منسوخ کرنے کے لیے رضا مند ہوگیا۔ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق اضافی کارگوز کے باعث 200 ایم ایم سی ایف ڈی کے مقامی کنویں بند کرنے پڑتے تھے۔ پاور سیکٹر کے استعمال نہ کرنے سے درآمد ایل این جی سرپلس ہوگئی تھی، سرپلس ایل این جی کے کارگوز کو گیس پائپ لائنوں میں ڈالا جاتا تھا۔

استعمال نہ ہونے کے باعث ایل این جی سسٹم میں ڈالنے سے پائپ لائنز کو پھٹنے سے بچانے کے لیے مقامی فیلڈز بند کی گئی، 2026 میں پاکستان قطر سے 120 کے بجائے 85 ایل این جی کارگوز منگوائے گا۔ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر 35 کارگوز منسوخ ہوں گے،پاکستان ایل این جی کے 24 ای این آئی کے 11کارگوز منسوخ ہوں گے اور منسوخ کارگوز سے 201ارب روپے کی بچت ہوگی۔حکام وزارت پیٹرولیم کے مطابق اضافی کارگوز کے منسوخ ہونے کے بعد مالی ضرورت پوری ہو جائے گی، سوئی کمپنیز کی مالی ضرورت 850ارب روپے ہے جو پوری ہو رہی ہے۔حکام کے مطابق گیس سیکٹر کا گردشی قرض 3100 ارب ہے، 1700 ارب گردشی قرض 1400 ارب روپے سود ہے، گردشی قرض کے اسٹاک کا 6 سالہ پلان تیار کرلیا۔تین آپشن پر مشتمل پلان کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، پانچ روپے پیٹرولیم لیوی کا نفاذ کمپنیوں کے ڈیونڈ ایڈجسٹمنٹ سود کی معافی کے آپشن شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…