پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس اکتوبر تک سست رہے گی، پی ٹی اے نے خبردار کردیا

datetime 28  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز اکتوبر کے اوائل تک سست رہنے کی توقع ہے کیوں کہ انٹرنیٹ میں سست روی کی وجہ بننے والی سب میرین کیبل کی مرمت اکتوبر تک کی جائے گی۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کی رفتار میں کافی کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کو واٹس ایپ کے ذریعے میڈیا اور آڈیو پیغامات بھیجنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جب کہ براڈ بینڈ پر بھی براؤزنگ انتہائی سست ہے۔

بزنس کمیونٹی اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (آئی ایس پیز) نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کی جانب سے ‘فائر وال’ سمیت انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کی کوششوں کی وجہ سے ڈیجیٹل سروسز میں سست روی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں معاشی نقصان ہو رہا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر شزہ فاطمہ نے تصدیق کی تھی کہ حکومت سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے ‘ویب مینجمنٹ سسٹم’ کو اپ گریڈ کر رہی ہے، انہوں نے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کو ‘کنٹرول’ کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔دوسری جانب پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سب میرین کیبل کی خرابی کو قرار دیا ہے، اور اس خدشے کو بھی مسترد کیا ہے کہ ریاست کی جانب سے فائر وال لگایا جارہا ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ سست روی کی وجہ دو سب میرین کیبلز ہیں، جن میں سے ایک کی مرمت کا کام ابھی باقی ہے۔

6ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی بنیادی طور پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی 7 عالمی سب میرین کیبلز میں سے دو (ایس ایم ڈبلیوـ4، اے اے ایـون) میں خرابی کی وجہ سے ہے۔ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق ایس ایم ڈبلیوـ4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی نے کہا کہ سب میرین کیبل اے اے ایـون کی مرمت کی گئی ہے جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری دیکھی جائے گی۔گزشتہ ہفتہ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے کہا تھا کہ سب میرین کیبل کو 27 اگست تک ٹھیک کر دیا جائے گا۔پی ٹی اے کے سربراہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا، جہاں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…