ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس اکتوبر تک سست رہے گی، پی ٹی اے نے خبردار کردیا

datetime 28  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز اکتوبر کے اوائل تک سست رہنے کی توقع ہے کیوں کہ انٹرنیٹ میں سست روی کی وجہ بننے والی سب میرین کیبل کی مرمت اکتوبر تک کی جائے گی۔گزشتہ چند ہفتوں کے دوران انٹرنیٹ کی رفتار میں کافی کمی دیکھی گئی ہے، خاص طور پر موبائل ڈیٹا استعمال کرنے والے صارفین کو واٹس ایپ کے ذریعے میڈیا اور آڈیو پیغامات بھیجنے یا ڈاؤن لوڈ کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جب کہ براڈ بینڈ پر بھی براؤزنگ انتہائی سست ہے۔

بزنس کمیونٹی اور انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرز (آئی ایس پیز) نے الزام لگایا تھا کہ حکومت کی جانب سے ‘فائر وال’ سمیت انٹرنیٹ ٹریفک کی نگرانی کی کوششوں کی وجہ سے ڈیجیٹل سروسز میں سست روی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے نتیجے میں معاشی نقصان ہو رہا ہے۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزیر شزہ فاطمہ نے تصدیق کی تھی کہ حکومت سائبر سیکیورٹی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنے ‘ویب مینجمنٹ سسٹم’ کو اپ گریڈ کر رہی ہے، انہوں نے حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کو ‘کنٹرول’ کرنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔دوسری جانب پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سب میرین کیبل کی خرابی کو قرار دیا ہے، اور اس خدشے کو بھی مسترد کیا ہے کہ ریاست کی جانب سے فائر وال لگایا جارہا ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ انٹرنیٹ سست روی کی وجہ دو سب میرین کیبلز ہیں، جن میں سے ایک کی مرمت کا کام ابھی باقی ہے۔

6ملک بھر میں جاری انٹرنیٹ کی سست روی بنیادی طور پر پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر جوڑنے والی 7 عالمی سب میرین کیبلز میں سے دو (ایس ایم ڈبلیوـ4، اے اے ایـون) میں خرابی کی وجہ سے ہے۔ٹیلی کام اتھارٹی کے مطابق ایس ایم ڈبلیوـ4 سب میرین کیبل میں خرابی اکتوبر 2024 کے اوائل تک ٹھیک ہونے کا امکان ہے۔پی ٹی آئی نے کہا کہ سب میرین کیبل اے اے ایـون کی مرمت کی گئی ہے جس سے انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری دیکھی جائے گی۔گزشتہ ہفتہ پی ٹی اے کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمٰن نے کہا تھا کہ سب میرین کیبل کو 27 اگست تک ٹھیک کر دیا جائے گا۔پی ٹی اے کے سربراہ نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ دعویٰ کیا تھا، جہاں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انہیں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…