ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

گزشتہ مالی سال ڈسکوز کے نقصانات 590 ارب روپے تک رہنے کا انکشاف

datetime 16  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے مجموعی نقصانات 5 سو 90 ارب روپے رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق محمد ادریس کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی پاور کا اجلاس ہوا جس میں حید باد کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی (حیسکو) کے سی ای او نے کہا کہ اس کے 46 فیڈر 80 سے 90 فیصد اوور لوڈڈ ہیں، حیسکو میں 60 سے 80 فیصد نقصانات والے فیڈرز پر 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔

سیکرٹری پاور ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ حکومتی پالیسی کے مطابق جہاں جتنا زیادہ نقصان اتنی زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے، پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ حیسکو میں سالانہ 53 ارب روپے کے نقصانات ہیں، گزشتہ مالی سال ڈسکوز کے مجموعی نقصانات 590 ارب روپے رہے۔اجلاس کے دوران کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے الیکٹرک کے مینیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) نے کہا کہ حکومت جو سبسڈی دیتی ہے وہ ٹیرف کے فرق کیلئے ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر نجکاری کے بعد بھی کے الیکٹرک نقصان میں ہے تو ڈسکوزکی نجکاری کا فائدہ ہو گا؟کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک حکام نے بتایا کہ کے الیکٹرک کو گزشتہ مالی سال 30 ارب کا نقصان ہوا، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ کے الیکٹرک نقصان کو کون پورا کرتا ہے؟ ایم ڈی کے الیکٹرک مونس علوی نے جواب دیا کہ نقصان ہم خود پورا کرتے ہیں۔

سیکریٹری پاور نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں 3 ڈسکوز کی نجکاری کا پلان ہے، ان ڈسکوز میں فیصل آباد کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی (فیسکو)، اسلام آباد کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی (آئیسکو) اور گوجرانوالہ کو بجلی فراہم کرنے والی کمپنی (گیپگو) شامل ہے۔اجلاس کے دوران حکام کی جانب سے انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ مالی سال ڈسکوز کے مجموعی نقصانات 590 ارب روپے رہے جب کہ کے الیکٹرک حکام نے آگاہ کیا کہ کے الیکٹرک کو گزشتہ مالی سال 30 ارب کا نقصان ہوا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور کے اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایم این اے اور کمیٹی کے رکن اقبال آفریدی نے خواتین کے لباس پر اعتراض اٹھا دیا۔اقبال آفریدی کے مطابق اجلاس میں شریک کے الیکٹرک کی خاتون جس لباس میں شریک تھی، وہ قابل اعتراض ہے، اس طرح کے لباس میں اجلاس میں شرکت نہیں ہونی چاہیے، اجلاس میں خواتین کے لباس کے لیے ایس او پیز ہونے چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…