کوکنگ آئل مہنگا ہونے پر سویابین آئل کے استعمال میں اضافہ

  بدھ‬‮ 16 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  17:32

ممبئی (این این آئی) پام آئل کے سب سے بڑے برآمد کنندہ ملک انڈونیشیا میں پام آئل کی ترسیل پر پابندی کے بعد سویابین آئل کی خریداری میں ریکارڈ اضافہ سامنے آیا ہے۔اس صورتحال کے بعد پام، سویا اور سورج مکھی آئل کے سب سے بڑے درآمد کنندہ بھارت میں رواں مالی سال پام آئل کی

درآمدات میں نمایاں طور کمی سامنے آئی ہے۔ایک تجارتی ادارے نے بتایا ہے کہ مالی سال 2021/22 میں بھارت کی پام آئل کی درآمدات پچھلے ایک سال پہلے کے مقابلے میں4.8 فیصد کم ہوئی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انڈونیشیا کی جانب سے پام آئل کی ترسیل پر پابندی کے بعد سویا آئل کی بیرون ملک خریداری 45.3 فیصد بڑھ کر ریکارڈ بلندی تک پہنچ گئی ہے۔ممبئی میں واقع سالوینٹ ایکسٹریکٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ 31 اکتوبر کو ملک کی پام آئل کی درآمدات ایک سال پہلے8.3 ملین ٹن سے کم ہو کر7.9 ملین ٹن رہ گئیں۔ایس ای اے کے مطابق پام آئل برآمد کرنے والے سرفہرست ملک انڈونیشیا نے رواں سال 2022 کی پہلی ششماہی میں مقامی قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ملکی برآمدات پر مختلف پابندیاں عائد کی تھیں۔مذکورہ پابندیوں نے پام آئل کو سویا آئل اور سورج مکھی کے تیل کی طرح مہنگا کردیا جس سے بھارتی ریفائنریز پام آئل کی خریداری کم کرنے پر مجبور ہوئیں۔واضح رہے کہ بھارت میں کوکنگ آئل خوراک کا بنیادی حصہ ہے، دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کوکنگ آئل اور پہلے نمبر پر سب سے زیادہ ویجی ٹیبل آئل بھارت درآمد کرتا ہے، اس کی ضرورت کا تقریباً 56 فیصد کوکنگ آئل سات سے زیادہ ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔بھارت میں عام طور پر پام، سویا بین یا سن فلاور آئل میں کھانا بنتا ہے، پام آئل کی 90 فیصد ضروریات انڈونیشیا اور ملائیشیا سے پوری کی جاتی ہیں جبکہ اس کا تقریبا نصف فیصد صرف انڈونیشیا سے درآمد کیا جاتا ہے۔



زیرو پوائنٹ

اہل لوگوں کی قدر کریں

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎

میرے گھر سے50 میٹر کے فاصلے پر ایک واکنگ ٹریک ہے‘ میں وہاں روزانہ واک کرتا ہوں‘ میرے ساتھ سیکٹر کے بے شمار لوگ‘ جوان‘ خواتین اور بچے بھی واک کر رہے ہوتے ہیں‘ یہ جگہ دو سال پہلے تک اجاڑ بیابان ہوتی تھی‘ انسان تو کیا جانور تک یہاں نہیں آتے تھے لیکن پھر دو سال پہلے یہاں تبدیلی ....مزید پڑھئے‎