جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب کی بڑی شوگر ملز کسانوں کے 10 ارب روپے کی نادہندہ نکلیں،سلمان شہباز، ہمایوں اختر اور ہارون اختر کی شوگر ملوں کے ذمہ بھی بھاری رقم نکلی

datetime 1  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد/لاہور (این این آئی)پنجاب کی 9 بڑی شوگر ملز نے کسانوں کے لگ بھگ 10 ارب روپے دبا لیے۔ نجی ٹی وی نے کین کمشنر پنجاب کے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اختر اور ہارون اختر کی دو شوگر ملوں کے ذمہ کسانوں کو ادائیگی کی 2 ارب 86 کروڑ سے زائد کی رقم

ہے۔اسی طرح وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی مخدوم عمر شہریار کی رحیم یار خان اور سیلانوالی شوگر ملز کو کسانوں کو ایک ارب 28 کروڑ روپے سے زائد رقم ادا کرنی ہے۔ذرائع نے کہا کہ شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کی رمضان شوگر ملز نے کسانوں کو 81 کروڑ سے زائد کی رقم ادا نہیں کی، میاں اسلم کی پتوکی اور دریا خان شوگر مل نے ایک ارب روپے سے زائد کی رقم دبا لی، شکر گنج شوگر مل جھنگ نے 40 کروڑ اور چنار شوگر مل نے کسانوں کے 87 کروڑ روپے ادا نہیں کیے۔ذرائع کے مطابق مل مالکان پنجاب حکومت کا شوگر کنٹرول ایکٹ ختم ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھانے لگے ہیں جبکہ سیاسی اثر و رسوخ ہونے کے باعث کسانوں کے نادہندگان کے خلاف موثر کارروائی نہیں ہو سکی۔کین کمشنر پنجاب محمد زمان وٹو نے کہا کہ شوگر فیکٹریز کنٹرول آرڈیننس ختم ہونے کے باوجود شوگر ملز پر کنٹرول ہے، آرڈیننس کے عرصے کے دوران کسانوں کو ادائیگیاں نہ کرنے پر فوجداری کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کو آرڈیننس کے عرصے کے دوران کی ادائیگیاں ہر صورت کرنا ہوں گی، اس ضمن میں کسی قسم کے تاخیری حربے قابل قبول نہیں۔محمد زمان وٹو کے مطابق کاشتکاروں کا استحصال برداشت نہیں کیا جائے گا، جن کاشتکاروں کے واجبات قابل ادا ہیں وہ متعلقہ شوگر مل کے خلاف کین کمشنر پنجاب یا متعلقہ ڈپٹی کمشنر آفس سے فوری رجوع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…