جمعہ‬‮ ، 04 ستمبر‬‮ 2026 

بی آر ٹی پر روزانہ کتنے لاکھ کے قریب لوگ سفر کر رہے ہیں ؟ حیران کن انکشاف

datetime 13  مارچ‬‮  2021 |

پشاور(این این آئی)بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے ذریعے روزانہ 2 لاکھ کے لگ بھگ شہری سفر کر رہے ہیں۔ اس سسٹم سے منسلک زو بائیسکل شیئرنگ سکیم بھی متعارف کرائی گئی ہے جو کہ پاکستان کی پبلک سیکٹر کی پہلی اور واحد بائیسکل شیئرنگ سکیم ہے۔ یہ سکیم ماحول دوست اور صحت مند معاشرے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان

جھگڑا نے پشاور بی آر ٹی کے تحت زو بائیسکل کے حیات آباد میں ڈاکننگ اسٹیشن کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ اس موقع پر ٹرانس پشاور کے زیر اہتمام زو بائیسکل آگاہی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کی قیادت صوبائی وزیر خزانہ و صحت تیمور سلیم جھگڑا، ممبر قومی اسمبلی ارباب شیر علی سمیت ممبر صوبائی اسمبلی ارباب وسیم نے کی۔ زو بائیسکل ریلی حیات آباد فیز 6 سے شروع ہو کر غنی باغ پر اختتام پذیر ہوئی۔ آگاہی ریلی کا مقصد شہریوں میں بائیسکل کے ماحول دوست اور صحت مند کلچر کو فروغ دینا تھا۔ آگاہی زو بائیسکل ریلی میں سی ای او ٹرانس پشاور فیاض خان، دیگر حکام اور شہریوں کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تیمور جھگڑا کا کہنا تھا کہ پشاور پاکستان کا پہلا شہر ہے جہاں بائیسکل شئیرنگ سسٹم کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس سے تمام شہریوں بالخصوص نوجوانوں اور طلبہ کو سہولت میسر آئے گی۔ حیات آباد اور یونیورسٹی آف پشاور میں 32 ڈاکننگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی منصوبے کی تعمیر کے دوران صوبائی حکومت پر سب سے زیادہ تنقید ہوئی جو کہ میگا پروجیکٹ کی تکمیل کی ٹائم لائن کی حد تک بجا تھی تاہم اب اس منصوبے سے شہری سب سے زیادہ مستفید بھی ہو رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر 2 لاکھ کے لگ بھگ شہری بی آر ٹی پر سفر کر رہے ہیں جو کہ اس منصوبے کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تیمور جھگڑا کا یہ بھی کہنا تھا کہ زو بائیسکل سکیم ماحول دوست اور صحت مند معاشرے کی جانب اہم قدم ہے۔ شہری زو بائیسکل شیئرنگ سسٹم کا بھرپور استعمال کریں تاہم اس کا خیال بھی رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…