منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

مزارات، ٹرانسپورٹ،تعلیمی ادارے سب کھل گئے مگر ریسٹورنٹ میں کھانے کی اجازت کیوں نہیں؟ریسٹورنٹ مالکان بھی میدان میں آ گئے

datetime 25  فروری‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری ( ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر اور کنوینر آل پاکستان ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن(اپرا)اطہر سلطان چاؤلہ نے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول آپریشن سینٹر(این سی اوسی) کی جانب سے 15مارچ سے مزارات کھولنے ، تجارتی مراکز کے لیے وقت کی حد ختم کرنے

کے اعلان کے برعکس ریسٹورنٹس میں تاحال کھانے کی اجازت نہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر این سی اوسی نے یکم مارچ سے انڈورڈائننگ کی سہولت بحال نہ کی توریسٹورنٹ مالکان حکومتی فیصلے کا انتظار کیے بغیر ازخود ریسٹورنٹس میں کھانے کی سہولت شروع کردیں گے۔نائب صدر ایف پی سی سی آئی و کنوینر اپرانے انڈور ڈائننگ کی اجازت کے معاملے کو مسلسل پس پشت ڈالنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایک جانب سینما ہال ، مزارات ، پارک کھولنے کی اجازت دی جاری ہے ،انڈور شادی تقریبات پر پابندی کے خاتمہ کر دیا گیا ہے مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ریسٹورنٹس میں کھانا کھانے کی اجازت نہیں دی جارہی اور حیلے بہانوں سے کام لیا جارہاہے؟ جس کی وجہ سے اربوں روپے کا سرمایہ داؤ پر لگا ہوا ہے ۔اطہر سلطان چاؤلہ نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ ریسٹورنٹ انڈسٹری کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا نوٹس لیں کیونکہ کورونا کی وبا بتدریج کم ہورہی ہے اور اسی تناظر میں این سی او سی نے معیشت کے مختلف شعبوں میں معمول کے مطابق کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کی اجازت دی ہے مگر فیصلہ ساز نجانے کیوں ریسٹورنٹ انڈسٹری کو تباہ کرنے پر بضد ہیں؟نائب صدر ایف پی سی سی آئی و کنوینر اپرا نے واضح طور پر کہا

کہ اگر ریسٹورنٹ انڈسٹری کو بھی معیشت کے دیگر شعبوں کی طرح معمول کے مطابق کاروبار کرنے یعنی انڈور ڈائننگ کی اجازت نہ دی گئی تو ریسٹورنٹ مالکان این سی اوسی کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر اپنے ڈوبتے سرمائے اور لاکھوں ورکرزکوبے روزگار ہونے سے بچانے کے لیے ریسٹورنٹس میں کھانے کی سہولت شروع کردیں گے اور کسی صورت میں انڈورڈائننگ کی بندش کے کسی بھی فیصلے کو نہیں مانیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…