ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سرکاری رعایتی اسکیم کے تحت مکاناتی قرض لینے والوں کو اسٹیٹ بینک نے بڑی خوشخبری سنا دی

datetime 15  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)اسٹیٹ بینک نے سرکاری رعایتی اسکیم کے تحت مکاناتی قرض لینے والوں کو تعمیراتی عرصے کے دوران ذاتی ضمانت کی سہولت دیدی درخواست گذاروں کو مکاناتی قرضے کے حصول میں فی الحال مشکلات کا سامنا ہے خاص طور پر سستے مکانات کے ضمن میں، کیونکہ جو مکان ابھی مکمل نہ ہوا ہو یا جس

کے کاغذات نامکمل ہوں،اْس کا خطرہ مول لینے میں بینک ہچکچا رہے ہیں۔ ہاؤسنگ یونٹ کی تکمیل اور مارگیج کی تشکیل میں وقت لگتا ہے۔ درخواست گذاروں اور بینکوں کے لیے اس مسئلے کے حل کی غرض سے اسٹیٹ بینک نے اس عرصے کے دوران زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے تیسرے فریق کی ضمانت قبول کرنے کی اجازت دیدی ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس غرض سے کہ سستے مکانات کے قرضے جاری کرنے میں بینکوں کو سہولت دی جائے، انہیں اس بات کی اجازت دیدی ہے کہ وہ تیسرے فریق کی ذاتی ضمانت قبول کر لیں یہاں تک کہ مکان کی تعمیر پوری ہو جائے اور مارگیج مکمل ہو جائے۔ یہ ضمانت زیادہ سے زیادہ ایک سال تک کے لیے کارآمد ہوگی۔ اس اقدام سے اْن ممکنہ قرض گیروں کو، جو اسٹیٹ بینک کی طرف سے 12 اکتوبر 2020ء کو جاری کردہ مارک اپ سبسڈی کی سرکاری اسکیم کے تحت مکاناتی قرضہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، مکاناتی ملکیت کے حصول میں مدد ملے گی۔ تیسرے فریق کی طرف سے ضمانت قرضے کے اجرا سے لے کر اْس وقت لے کر تک کارآمد ہوگی جب تک مکان کی تعمیر مکمل ہو جائے اور رسک کوریج پاکستان مارگیج ری فنانس کمپنی کو حاصل ہو جائے۔ تیسرے فریق کی ذاتی ضمانت کی قبولیت سے سستے مکاناتی قرضوں کے اجرا کے سلسلے میں

بینکوں کو اضافی اطمینان میسر آئے گا، کیونکہ اس شعبے میں کاروباری امکانات کے پیشِ نظر بینک اس میں خاصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ توقع ہے کہ اِس اقدام کے بعد بینک یہ یقینی بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں گے کہ مارک اپ سبسڈی اسکیم کے فوائد معاشرے کے اْن پسماندہ طبقات تک پہنچیں جو اِس وقت ذاتی مکان کے مالک نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…