ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کسی بھی بینک سے 5 لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم نکلوانے والے شہری پہلے پولیس سے رابطہ کریں ، بینکوں کے باہر پوسٹرز آویزاں

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

کراچی( آن لائن )کراچی میں پولیس نے بینکوں سے 5 لاکھ روپے نکلوانے والوں کو سکیورٹی دینے کا اعلان کردیا۔ تفصیلات کے مطابق شہر قائد میں سائٹ پولیس کی جانب سے بینک سے 5 لاکھ روپنے نکلوانے والوں کو سیکیورٹی دینے کا اعلان کیا گیا ہے ، اس ضمن میں پولیس نے کہا ہے کہ کسی بھی بینک سے 5 لاکھ روپے یا اس

سے زائد رقم نکلوانے والے شہری پہلے پولیس سے رابطہ کریں۔بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے شہریوں کو آگاہ کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے بینکوں کے باہر پوسٹرز بھی آویزاں کیے گئے ہیں۔دوسری طرف مختلف بینکوں کی جانب سے اے ٹی ایم ٹرانزیکشن فیس وصول کیے جانے کی وجہ بھی سامنے آچکی ہے ، میڈیا رپورٹ کے مطابق اے ٹی ایم ٹرانزیکشن کی رسید پر 2 روپے 50 پیسے کاٹنے کا فیصلہ اے ٹی ایم کا نیٹ ورک چلانے والی کمپنی ون لنک کی جانب سے کیا گیا۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ون لنک نے ایک مہم گو گرین کے نام سے شروع کی ہے ، جس کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر کی جانے والی کوششوں میں شامل ہونا ہے ، جس کے تحت بینک صارفین کیلئے اے ٹی ایم سے رقوم نکالنے کے بعد کاغذ کی رسید حاصل کرنے کا آپشن ان کے اختیار میں دیا گیا ہے ، لہذا صارفین چاہیں تو رسید حاصل کرنے کے لیے ہاں کا بٹن دباکر رسید وصول کرسکتے ہیں جس کیلئے انہیں 2 روپے 50 پیسے ادا کرنا ہوں گے ، اے ٹی ایم سے رسید لینے پر یہ ڈھائی روپے تمام بینک نہیں کاٹ رہے بلکہ ابھی صرف چند بینکوں کی جانب سے ہی ایسا کیاجا رہا ہے۔میڈیا رپورٹ میں ون لنک ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ گو گرین مہم کے تحت یہ اقدام معاشرے میں پرنٹڈ کاغذ

کے استعمال کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا کیوں کہ صارف عام طور پر یہ رسید ضائع کردیتے ہیں تاہم سٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے رسید لازمی طور پر حاصل کرنے کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی اور یہ صارفین کا اختیار ہے کہ وہ رسید حاصل کریں یا ایس ایم ایس کے ذریعے اکانٹ کی تفصیل دیکھیں جس پر انہیں کسی بھی قسم کے چارجز نہیں دینے ہوں گے جب کہ رسید لینے پر انہیں 2 روپے 50 پیسے ادا کرنا ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…