منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ،کلو چیز خریدنے والے بھی پائو یا ساشہ خریدنے پر مجبور ہو گئے

datetime 11  فروری‬‮  2021 |

را ئے ونڈ( این این آئی ) مہنگائی اور بے روزگاری کے باعث عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ،پانچ کلو گھی کا ڈبہ خریدنے والے ایک کلو ،جبکہ اکلو خریدنے والے پائو کا ساشہ خریدنے پر مجبور ہوگئے ۔ایک رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے مہنگائی پر کنڑول نہ ہونے

اور کورونا وائرس سے بے روزگاری میں اضافے کے بعد سفید پوش طبقہ کا گزر بسر محال ہو چکا ہے ،لنڈ ابا زار سے خر ید ار ی کر نا صر ف غر بیو ں کیلئے ہی نہیں بلکہ متو سط طبقے کی بھی مجبور ی بن چکا ہے لیکن اب اس ہو شر با مہنگا ئی اور کر ونا وائر س نے لنڈابا زار کو بھی نہیں چھو ڑا لنڈ ابازار غر بیو ں کیلئے خر یدای کا مر کزتھا لیکن مہنگا ئی نے لنڈ ے کو بھی نہ چھو ڑا، استعما ل شد ہ کپڑ ے بھی غر یب کی پہنچ سے دور کر دیئے بچو ں اور بڑ وں کیلئے گر م ملبو سا ت کی بھر پو ر ورائٹی مو جو د ہے ۔استعما ل شد ہ کپڑ وں کے دام بھی نئے کپڑوں سے کم نہیں د کا ند ار کہتے ہیں کہ ہم بے بس ہیں لنڈ ے پر20 فیصد ٹیکس نے اسے بھی مہنگا کر دیا ۔شہر یوں کا کہنا ہے کہ سر دی سے بچنے کیلئے لنڈے سے معیا ری ملبو سا ت مل جا تے ہیںتا ہم گز ستہ سا ل جوکو ٹ 600رو پے کا تھا اس بارد کا ند ار 1000میں دینے پر بھی راضی نہیں ہیں اسی طر ح استعما ل شد ہ جو تو ں کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں جن کے دام میں200 سے300 رو پے کا اضا فہ ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…