ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

ملک میں عروج پر پہنچی ہوئی مہنگائی، وزیراعظم کی مارکیٹ کمیٹیاں ختم کرنے کی ہدایت

datetime 3  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)ملک میں مہنگائی عروج پر ہے جبکہ وزیراعظم کا مارکیٹ کمیٹیاں ختم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مارکیٹ کمیٹیاں ختم کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ مارکیٹ کمیٹیوں سے متعلق وزیراعظم کو شکایات موصول ہوئی تھیں۔مارکیٹ کمیٹیاں

بڑے تاجروں، پریشر گروپس سے مل کر پیسے بناتے ہیں۔مارکیٹ کمیٹیاں اشیائے خوردونوش کی قیمتیں کم کرنے میں ناکام ہوئی۔مارکیٹ کمیٹیاں اپنے ذاتی مفادات نکالتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق مارکیٹ کمیٹیوں کی اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں۔ کمیٹیاں اپنے فائدے کے لیے عوام کے لیے ریلیف کو نظر انداز کر دیتی پائی گئیں، قیمتوں کے کنٹرول میں ناکام ہیں۔ ان کی کارکردگی بری رہی ہے۔ وزیراعظم نے مارکیٹ کمیٹیاں تحلیل کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا۔ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان کی طرف سے پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے پیش نظر مارکیٹ کمیٹیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کے اعلان کا شہریوں مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے خیر مقدم کیا ہے آن لائن کے مطابق گذشتہ دو سال کے دوران روز بروز بڑھتی ہوئی مہنگائی ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے عوام کی زندگی دوبھر ہوچکی تھی اس سلسلہ میں پنجاب بھر کی مارکیٹ کمیٹیاں جن کی ذمہ داری اشیاء خوردنی کے نرخوں کو کنٹرول کرنے اور ذخیرہ اندوزوں کے سدباب کیلئے قائم کی گئی تھی وہ بری طرح ناکام۔چنانچہ اس صورتحال کے پیش نظر عوام کی مسلسل شکایت پر وزیراعظم نے وزیراعلی پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے وزیر اعلی کو فوری

طور پر مارکیٹ کمیٹیوں کو ختم کرکے ان کی جگہ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا حکم دیا ہے یہ امر قابل ذکر ہے مارکیٹ کمیٹیوں میں تعینات ایڈمنسٹریٹر اور اراکین مارکیٹ کمیٹی کی اکثریت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں اور کارکنوں سے تھا جو بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے تھے۔آن لائن

کو معلوم ہے اب ان مارکیٹ کمیٹیوں میں چیئرمین کی بجائے محکمہ خوراک / زراعت اور ضلعی انتظامیہ کے افسروں کو ایڈمنسٹریٹر مقرر کیاجائیگا تاکہ وہ اپنی ذمہ داری سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کرسکے۔وزیراعظم کے اس اقدام کو تاجروں ‘دکانداروں اور شہریوں نے سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ انتظامیہ بلاوجہ مہنگائی اور مہنگے دامو ں اشیائے فروخت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی کریگی تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…