اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ملک بھر میں گاڑیوں کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے،10 سے 12 لاکھ میں فروخت والی گاڑی کتنے لاکھ میں مل رہی ہے؟ تہلکہ خیز انکشاف

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) ملک بھر میں گاڑیوں کی قیمتوں کو پر لگ گئے جس کی اہم وجہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندی اور ڈالر ڈیوٹی ہے۔پاکستان بھر میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے باعث غریب کے ساتھ ساتھ متوسط طبقہ بھی شدید متاثر ہے، گاڑیوں کی دن بہ دن بڑھتی ہوئی قیمتوں نے اس میں مزید اضافہ کردیا اور قیمتیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ عام کی پہنچ سے بہت دور ہوگئی ہیں۔پاکستان

میں 10 سے 12 لاکھ میں فروخت ہونے والی کار 18 سے 20 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 15 سے 22 لاکھ میں ملنے والی گاڑی کی قیمت 31 لاکھ تک بڑھ گئی ہے جبکہ مارکیت سے گاڑیون کے اسپیئر پارٹس کی خریداری بھی مسئلہ بن گئی ہے۔ڈالر کی قدر میں مسلسل کمی کے باوجود گاڑیوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہے۔کار ڈیلر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ نئی گاڑیوں میں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ بیرون ممالک سے گاڑیوں کی درآمد پر پابندی کے باعث ہے اگر حکومت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی ہٹادے تو مقامی گاڑیوں کی قیمتیں معمول پر آسکتی ہیں کیونکہ انہیں مقابل مل جائے گا۔کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے رہنما ایس ایم شہزاد نے بتایا کہ حکومت عوام کو چوائس دے اور کمرشل امپورٹ کو کھولے تاکہ پاکستان میں موجود تین برانڈز اپنی گاڑیوں کی قیمتیں کم کرنے پر مجبور ہوں۔انہوں نے گاڑیوں کی کوالٹی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قیمتوں میں اضافے کے باوجود گاڑی کی کوالٹی کا کوئی معیار نہیں ہے اور گاڑیوں میں حادثات کے دوران حفاظت کا بھی کوئی انتظام نہیں ہے۔کار ڈیلر ایسوسی ایشن کے رہنما کا کہنا تھا کہ 20 سے 25 لاکھ روپے مالیت کی کی گاڑیوں میں ایئر بیگس ہی موجود نہیں ہوتے اور ایئربیگس لگوانے کیلیے 2 سے 3 لاکھ روپے کسٹمر کو الگ سے ادا کرنے پڑتے ہیں جبکہ جاپان میں بیس سال پرانی گاڑیوں میں بھی کم از کم

دو ایئربیگس موجود ہوتے ہیں۔باہر سے گاڑیاں منگوانے کیلیے ایک پالیسی لائی گئی تھی ایس آر او 521 میں کہا گیا تھا کہ جو باہر سے گاڑی لائے گا وہ ڈالر ڈیوٹی بھی لائے گا جو کہ ناممکن ہے۔واضح رہے کہ سالانہ 80 ہزار گاڑیاں باہر سے آتی تھیں اور 2018 میں 84 ہزار گاڑیاں آئی تھی جس کی وجہ سے 100 ارب روپے کا ریونیو حکومت کو ملا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…