اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ان بینکوں میں سرکاری اکاؤنٹس بند کردیے جائیں، اسٹیٹ بینک نے حکم جاری کر دیا

datetime 8  اکتوبر‬‮  2020 |

کراچی(آن لائن) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سنگل ٹریزری (ایک اکانٹ)سے متعلق نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاق کی تمام وزارتوں، ڈویژنز، ملحقہ شعبہ جات اور ماتحت دفاتر کو کمرشل بینکوں میں سرکاری اکانٹس بند کرنے کا حکم دیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ تمام وزارتیں اور محکمے کمرشل بینکوں سے رقوم کو اسٹیٹ بینک کے سنٹرل اکانٹ میں منتقل کریں۔ تمام کمرشل بینک

7 دن کے اندر بینک اکانٹ بند کرنے کی کارروائی کریں۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں میں رکھی گئی وفاقی وزارتوں اور محکموں کی رقوم ایک ہزار400 ارب روپے سے زائد ہے۔ وفاقی اداروں کی رکھی رقوم مجموعی کھاتوں کا 9 فیصد ہے۔خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک نے اگست میں بتایا تھا کہ مالی سال 2020 میں کرنٹ اکانٹ خسارے میں 78 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس کرنٹ اکاٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد رہا۔ مالی سال 2019 کے اختتام پر کرنٹ اکانٹ خسارہ 13ارب 43 کروڑ ڈالر تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.8 فیصد بنتا ہے۔گزشتہ ماہ پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی سے بینک کے ذخائر کم ہوکر 12.70 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ بیان کے مطابق 11 ستمبر تک مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 12 ارب 82 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکانٹ خسارہ (آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق) ختم ہوگیا تھا اور کرنٹ اکانٹ 424 ملین ڈالر سرپلس میں چلا گیا تھا۔ جولائی 2019 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 613 ملین ڈالر تھا اور جون 2020 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 100 ملین ڈالر تھا۔اسی طرح جولائی 2020 میں برآمدات کی شرح نمو 19.7 فیصد رہی اورجولائی کے مہینے پاکستانیوں نے2 ارب 76 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کی رقم بھیجی جو کہ ملکی تاریخ میں بھیجی جانے والی ایک مہینے میں سب سے زیادہ رقم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…