اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پیاز کے بیج بہہ گئے ،ٹماٹر کی تیار فصلیں بھی سیلاب کی نذر طوفانی بارشوں کے باعث سبزیوں کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

datetime 1  ستمبر‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ میں طوفانی بارشوں نے سبزیوں کی فصل تباہ کردی اور پیاز کے بیج بہہ گئے ،ٹماٹر کی تیار فصلیں بھی بارش اور سیلابی پانی کی نذر ہوگئیں۔سبزی منڈی کے وائس چیئرمین آصف احمد کے مطابق کراچی سبزی منڈی میں اندرون سندھ سے سبزیوں کی سپلائی 60 فیصد تک کم ہوگئی ہے۔

جو سبزی پہنچ رہی ہے وہ پانی کی وجہ سے جلد خراب ہورہی ہے، پیاز کے بیج حال ہی میں کاشت کیے گئے تھے جو شدید بارشوں کے باعث زمین پکڑنے سے قبل ہی بہہ گئے، سبزیوں کی تیار اور کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹماٹر، پیاز اور ہری سبزیوں کی قلت کا سامنا ہوگا۔آصف احمد نے بتایاکہ بارشوں اور سیلابی پانی سے سندھ کا وسیع زیر کاشت رقبہ متاثر ہوچکا ہے، وفاقی حکومت پیاز کی قلت کے پیش نظر ابھی سے منصوبہ بندی کرے اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ میں کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد نے بھی آنے والے دنوں میں پیاز کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بلوچستان کی فصل بازار میں ہے جو ملک کی طلب پوری نہیں کرسکتی، زیر آب زمین میں پیاز کاشت نہیں کی جاسکتی، اس لیے درآمدی پیاز سے طلب پوری کرنا پڑے گی۔دوسری جانب کراچی کی سبزی مارکیٹوں میں ٹماٹر ایک بار پھر 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، آلو 60 سے 70 روپے فروخت ہورہا ہے، پیاز کی قیمت 70 روپے وصول کی جارہی ہے، کھیرا 80 روپے کلو، سبز دھنیا اور پودینہ کی گڈی 10کے بجائے 20 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، ٹینڈے، لوکی، توری 100 سے 120 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں، پالک 50 روپے کلو، بیگن 80 روپے کلو، بھنڈی 140 روپے کلو اور اروی 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…