منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ودہولڈنگ ایجنٹس و ٹیکس دہندگان پر جرمانے کی شرح میں اضافہ، ایف بی آر متحرک ،چھاپہ مارنے سے روکنے والوں کیخلاف بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)نے تمام فیلڈ فارمشنز کو حکومت کیلیے ٹیکس اکٹھا نہ کرنے والے ود ہولڈنگ ایجنٹس،ٹیکس چوری کے کیسوں میں چھاپہ  مارنے والی ایف بی آر کی ٹیم کو دفاتر و عمارتوں اور کاروباری مقامات پر داخلے سے روکنے اور ریکارڈ تک رسا ئی نہ دینے والے ٹیکس دہندگان، ویلتھ اسٹیٹمنٹس وری کنسیلئیشن اسٹیٹمنٹس جمع نہ کروانے سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر

اضافہ شدہ شرح سے جرمانے عائد کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ایف بی آر کے ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ فنانس ایکٹ 2019 کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 182 میں متعدد ترامیم تجویز کی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کیلیے ود ہولڈنگ ٹیکس اکٹھا نہ کرنے والے ود ہولڈنگ ایجنٹس کیلیے جرمانے کی شرح  25  ہزار روپے سے بڑھا کر 40ہزار روپے کی گئی ہے۔اسی طرح اپنے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ویلتھ اسٹیٹمنٹس اور ری کنسلیئیشن اسٹیٹمنٹس جمع نہ کروانے والے ٹیکس دہندگان پر جرمانوں کی شرح 20 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کی گئی ہے جبکہ رجسٹریشن نہ کروانے پر جرمانے کی شرح 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے،اور اگر ایک ٹیکس اییر کے دوران زیادہ مرتبہ انکم ٹیکس ریٹرن میں غلطی‎ کی وجہ سے درستی کرنے پر جرمانے کی شرح 5 ہزار روپے سے بڑھا کر 30 ہزار روپے کی گئی ہے۔کمشنر ان لینڈ ریونیو کو انسپکشن و چھاپے کیلیے کاروباری جگہ میں داخل ہونے سے روکنے اور کاروباری جگہ پر ریکارڈ تک رسائی نہ دینے پر جرمانے کی شرح 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 50ہزار روپے کی گئی ہے اور اگر کوئی ٹیکس دہندہ ٹیکس اپنی اصل آمدن چھپاتا ہے یا ٹیکس گوشواروں میں غلط آمدنی ظاہر کرتا ہے تو اس کیلیے جرمانے کی شرح 25 ہزار روپے سے بڑھا کر ایک لاکھ روپے کردی گئی ہے۔اسی طرح جو ود ہولڈنگ ایجنٹس ٹیکس ود ہولڈ کرکے قومی خزانے میں جمع نہیں کروائیں گے ان پر جرمانے 25 ہزار روپے سے بڑھا کر 40 ہزار روپے کیے گئے ہیں اسی طرح انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 114 کے تحت انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والوں پر جرمانے کی شرح کی حد 20ہزار روپے یومیہ سے بڑھا کر 40ہزار روپے یومیہ کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایف بی آر کی جانب سے فیلڈ فارمشنز و دیگر مجاز اتھارٹیز کو ہدایت کی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مذکورہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اورخلاف ورزی کے مرتکب ذمے داران کو نئے اضافہ شدہ ریٹس کے مطابق جرمانے کیے جائیں اور جرمانوں کی ریکوری کو بھی یقینی بنایا جائے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…