منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاک ایران سرحدی تجارت کی سطح ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو جلد کتنے ارب ڈالر ہو جائے گی؟بڑی خوشخبری سنا دی گئی

datetime 15  دسمبر‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن)ایران پاک فیڈریشن آف کلچر اینڈ ٹریڈ کے صدر خواجہ حبیب الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت کی سطح ایک ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو جلدپانچ ارب ڈالر ہوجائے گی، دو طرفہ تجارت کے فروغ کیلئے دونوں ممالک کو بارٹر سسٹم اور مقامی کرنسی میں لین دین کر نا ہو گا،

گوادر اور چابہار بندرگاہیں تجارتی تعلقات کو فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تہران چیمبر آ ف کامر س کے چیئرمین مسعود خانساری کی قیادت میں ملاقات کیلئے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ خطے میں توانائی شعبے میں اجتماعی تعاون کیلئے ایران کے ساتھ موجودہ گیس منصوبے کی جلد تکمیل ناگزیر ہے کیونکہ ایرانی گیس منصوبہ 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس کی فراہمی کی صلاحیت رکھتا ہے لہٰذااس منصوبے کو تیزی کی بنیاد پر 24 مہینوں میں کیا جاسکتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان بینکاری چینل کا فقدان تجارتی تعلقات کی توسیع کی اہم رکاوٹ ہے جس کو دور کرنے کیلئے اب عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے ایران کے ساتھ تفتان، پنجگور، مند اور گبد میں سرحدی مارکیٹوں کی تعمیر میں تیزی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دو نوں اطراف کی مقامی تجارت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔خواجہ حبیب الرحمان نے کہا کہ تجارت میں اضافے کیلئے ایران نا ن ٹریڈ بیئریرز کے خاتمے کیلئے ضروری اقدامات کرے،پاکستان ایران کو گندم، چینی، چاول اور پھلوں کی برآمد میں اضافہ کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ گاڑیوں اور ٹرکوں پر عائد ٹیکس اور شاہراؤں کے ٹیکسوں کو ختم کیا جانا چاہیے اس سے سرحدی نقل و حمل اور تجارتی سہولیات حاصل ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…