منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

غریب آدمی جائے تو کدھر جائے سرکاری نرخنامے میں سبزیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھائو عوام کی پریشانیوں میں اضافہ دو گنا بڑھ گیا ،گراں فروشی جاری

datetime 23  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)سرکاری نرخنامے میں سبزیوں کی قیمتوں میں اتار چڑھائو دیکھا گیا تاہم اوپن مارکیٹ میں اس کے اثرات نظر نہ آ سکے اور دکانداروں کی جانب سے گراں فروشی کا سلسلہ جاری رہا ، برائلر گوشت کی قیمت 3روپے کمی سے 196روپے فی کلو رہی۔ آلو کچا چھلکا کی

سرکاری نرخنامے میں قیمت 2روپے کمی سے 56روپے مقرر کی گئی تاہم اوپن مارکیٹ میں 60سے 65 روپے میں فروخت ہوا ،آلو شوگر فریق 41کی بجائے48سے50،آلو سٹور31کی بجائے40،پیاز 77کی بجائے90سے 100،ٹماٹر 190کی بجائے 250سے280،لہسن دیسی 66روپے اضافے سے 288کی بجائے320سے350روپے ،لہسن چائنہ 248کی بجائے300سے 310،ادرک چائنہ287کی بجائے340سے 350،بینگن34کی بجائے40 سے 45،کھیرا فارمی 52کی بجائے 55سے60،کریلے50کی بجائے60سے65،پالک فارمی 24کی بجائے30،ٹینڈے دیسی 50کی بجائے سے 60سے 65،پالک دیسی 30،لیموں چائنہ49کی بجائے55سے60،میتھی38کی بجائے50،لہسن ایرانی25روپے کمی سے 187روپے مقرر کی گئی تاہم اوپن مارکیٹ میں 230سے250روپے ،بند گوبھی63کی بجائے70سے75،پھول گوبھی 42کی بجائے 55سے 60،گھیا کدو 37کی بجائے45سے50،شلجم 24کی بجائے35سے40،سبز مرچ اول160کی بجائے180سے190،شملہ مرچ 214کی بجائے230سے240،اروی 63کی بجائے70،بھنڈی83کی بجائے90سے 95،مٹر82کی بجائے100،مولی 14کی بجائے20،گھیا توری 76کی بجائے80سے85،گاجر دیسی 42کی بجائے50،گاجر چائنہ44کی بجائے50،پھلیاں63کی بجائے70سے 75،ساگ 24کی بجائے30جبکہ مونگرے 83کی بجائے95سے100روپے فی کلو فروخت ہوئے۔علاوہ ازیں برائلر گوشت کی قیمت3روپے کمی سے 196روپے، زندہ برائلر مرغی2روپے کمی سے 135روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت 110روپے فی درجن پر مستحکم رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…