منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کی جانب سے ہر طبقے پر بوجھ ڈالنے کے منصوبے سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے ، صدرآل پاکستان انجمن تاجران

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) آل پاکستان انجمن تاجران نے ہر ماہ فیول پرائش ایڈ جسٹمنٹ کی بنیاد پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہر طبقے پر بوجھ ڈالنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس سے عوام کی کمر ٹوٹ چکی ہے ،حکومتی پالیسیوں سے مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ اور آمدن میں کمی سے لوگوں کی قوت خرید جواب دے گئی ہے اور حالات انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتے جارہے ہیں ۔

جو لمحہ فکریہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی صدر اشرف بھٹی نے اپنے دفتر میں ملاقات کیلئے آنے والے تاجروں کے نمائندہ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران بند کمروںمیں بیٹھ کر پالیسیاں بنانے والوں کی بجائے باہر آئیں تو انہیں معاشی طور پر بد حال عوام کی چیخیں سنائی دیں۔ عوام پر ہر روز کسی نہ کسی صورت میں مہنگائی کا بم برسائے جاتے ہیں۔ یہ کیسا میکنزم ہے کہ فیول پرائس ایڈ جسٹمنٹ کی مد میں صرف بجلی کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور ان میں کمی نہیں ہوتی ۔ یہی صورتحال پیٹرولیم مصنوعات کی ہے جس میں اضافہ روپے میں کیا جاتا ہے لیکن جب ریلیف دینے کا مرحلہ آتا ہے تو یہ پیسوں میں ہوتا ہے جس سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اشرف بھٹی نے کہا کہ مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے حالات جس طرف بڑھ رہے ہیں اس سے اگلا مرحلہ بڑا خوفناک ہوگا اور اسے کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے تاکہ عوام کو بھی ریلیف ملے او ر ان کی زندگیوں میں اطمینان آ سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…