منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

معیشت کی پائیدار ترقی ،قرضے اتارنے کیلئے قومی پالیسی کی دستاویز تیار کی جائے،چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی) چیئر پرسن کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ، سابق صدر لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پرویز حنیف کہاہے کہ معیشت کودلدل سے نکال کرپائیدار بنیادیں فراہم کرنے اور قرضے اتارنے کیلئے سیاسی وابستگیوںسے بالاتر ہوکرقومی پالیسی تشکیل دے کر دستاویز تیارکی جائے۔

قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ملک کیسے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے ،میڈ ان پاکستان کے سلوگن کی تشہیر کی جائے ۔ملاقات کیلئے آنے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مصنوعی پالیسیوں کاخاتمہ اچھا اقدام ہے، ڈالر کومصنوعی طریقے سے منجمد کرنے کی وجہ سے ہماری معیشت کو بے پناہ نقصان ہوا اور اس کاخمیازہ ہماری معیشت کوبھگتناپڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سیاست ضرورکی جائے لیکن یہ پاکستان کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے ،اگر پاکستان ہے تو سب کی سیاست بھی ہے اور اگر خدانخواستہ پاکستان کمزورہوتا ہے تو کسی کی سیاست بھی نہیں رہے گی ۔ معیشت کی پائیدار ترقی اورغیر ملکی قرضے اتارنے کیلئے سر جوڑ کر بیٹھا جائے اور متفقہ قومی پالیسی تیار کر کے اسے دستاویزی شکل میں قوم کے سامنے لایا جائے ۔ جب تک ہم قرضوںکے اژدھا کے پنجوںسے خودکو آزادنہیں کرالیتے پاکستان کا آگے بڑھنا مشکل ہے ،ہمیں اپنی معیشت کی ترقی کے ساتھ ساتھ قرض اتارنے کی بھی پالیسی لانا ہو گی ۔ پرویز حنیف نے کہاکہ حکومت ہر سال لاکھوں افراد کو روزگارفراہم نہیں کر سکتی اس کے لئے نجی شعبے کی گروتھ ضروری ہے ،حکومت ہنرسکھانے والے اداروں کی معاونت کرے تاکہ نوجوان جدید ہنر سیکھ کراپنے ملک میں یا بیرون ملک روزگار کمانے کے قابل ہو سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…