منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خبردار ہوشیار!پی ٹی اے نے چوری شدہ فون سے متعلق اہم فیصلہ سنا دیا

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے چوری شدہ فونز کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کیلئے خدمات متعارف کرادی ہیں،اگر آپ کا موبائل فون چوری ہوگیا ہے یاچھین لیا گیا ہے تو فوری طور پر شکایت درج کروائی جا سکتی ہے۔ ایسے موبائل فون کو 16 گھنٹوں کے اندر بلاک کروایا جاسکتا ہے۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)کی جانب سے جاری کیے

جانے والے بیان کے مطابق چوری شدہ فونز کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کیلئے خدمات متعارف کرائی گئی ہیں۔چھینے گئے یا چوری شدہ موبائل فون کی شکایت درج کروانے کیلئے شکایت کنندہ ہیلپ لائن پردرج کراسکتا ہے، پی ٹی اے کو ای میل یا نزدیک ترین زونل آفس جا کر بھی مدد لی جا سکتی ہے ۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق سٹیزنزپولیس لائزن کمیٹی(سی پی ایل سی)کی ہیلپ لائن پر بھی ایسے موبائل فونز سے متعلق شکایت درج کروا کے انہیں بلاک کروایا جاسکتا ہے۔شکایت درج کروانے والے کو متعلقہ پلیٹ فارم پر اپنے چوری شدہ یا چھینے گئے موبائل فون کا آئی ایم ای آئیز نمبر، موبائل فون کی برانڈ، ماڈل ، رنگ، چوری ہونے یا چھینے جانے کے وقوعہ کی تاریخ کے علاوہ نام ، پتہ، شناختی کارڈ نمبر فراہم کرنا ہوگا۔اندراج شکایت کے16 گھنٹے بعد فون کی حیثیت کی جانچ کی جاسکتی ہے۔ ایس ایم ایس ، ویب سائٹ یا اینڈرائیڈ ایپلی کیشن(ڈی وی ایس)کے ذریعے آپ اپنے فون کا اسٹیٹس چیک کرسکتے ہیں۔آپ کے موبائل فون آئی ایم ای آئی نمبر کا # 06 #* ڈائل کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ یہ نمبرموبائل ڈیوائس کی سیٹنگزمیں بھی موجود ہوتا ہے جبکہ ڈبے پر بھی درج ہوتا ہے۔بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پی ٹی اے کا اختیار صرف فون بلاک کرنے تک محدود ہے۔ گمشدہ فون کو تلاش کرنے کیلئے پولیس سے رابطہ کرنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…