منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی دارالحکومت کا سیف سٹی پراجیکٹ ناکام 3سال گزر گئے چینی کمپنی کام کیوں مکمل نہ کرسکی؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  اکتوبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی دارالحکومت میں لگایا گیا 15 ارب روپے کا سیف سٹی پراجیکٹ مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (این آئی ٹی بی) کی مشترکہ رپورٹس میں سیف سٹی کو بے یارو مدد گار اور بے اثر پراجیکٹ قرار دے دیا گیا ہے۔سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز سال 2016 میں کر دیا گیا تھا لیکن تاحال چینی کمپنی اس

منصوبے کو مکمل نہیں کر سکی۔ چینی کمپنی کی جانب سے گزشتہ 3 سالوں میں 6 مرتبہ کام مکمل کرنے کی مختلف تاریخیں دی گئیں لیکن تاحال کام ادھورا ہے۔حکومتی رپورٹس کے مطابق 65 ملین ڈالر کی ادائیگی جو منصوبے کا 55 فیصد بنتا ہے منصوبہ شروع ہونے کے بعد ایک ہفتہ میں کر دی گئی تھی اور اب تک 95 فیصد ادائیگی کی جا چکی ہے لیکن کمپنی مزید رقم کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ منصوبے میں اب تک 50 فیصد سے زائد کام باقی ہے۔ذرائع کے مطابق سیف سٹی پراجیکٹ میں اب تک لگائے گئے کیمروں میں سے آدھے سے زیادہ کیمرے ناکارہ ہو چکے ہیں اور کسی بھی ادارے کے پاس خراب کیمروں کا اعداد و شمار موجود نہیں ہے۔ جو کیمرے کام کر رہے ہیں ان میں رات کو دیکھنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔کوئی بھی ادارہ سیف سٹی پراجیکٹ کی ملکیت لینے کو تیار نہیں ہے۔وفاقی دارالحکومت کے شہری مکمل طور پر عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ پولیس پر ہونے والے حملوں کے تاحال ملزمان گرفتار نہیں ہو سکے جبکہ شہر میں جرائم کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…