منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

درآمدات کو مقامی پیداوار پر ترجیح دینے کی پالیسی بدلی جائے : ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

datetime 29  ستمبر‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی )پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس کے قوانین میں تبدیلی کیوجہ سے درآمد شدہ خام مال ملک میں تیار ہونے والے خام مال سے سستا ہو گیا ہے جس سے نہ صرف مقامی صنعت شدید مشکلات سے دوچار ہے بلکہ بھاری مقدار میں زرمبادلہ بھی ضائع ہو رہا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ درآمدات کو مقامی پیداوار پر ترجیح

دینے کی پالیسی بدلی جائے، یہ رجحان ملک میں صنعتوں کی بندش، بینک ڈیفالٹ، غربت اور بیروزگاری محاصل میں کمی اور زرمبادلہ کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے اس لئے ان قوانین کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ڈاکٹر مرتضی مغل نے کہا کہ زیرو ریٹنگ کے خاتمہ کے بعد برآمدی صنعت مقامی منڈی سے خام مال خریدنے کے بجائے درآمدات کو ترجیح دی رہی ہے جس سے ملک میں کپاس، دھاگے اور خام کپڑے کی طلب کم ہو گئی ہے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال تیار کرنے والے ہزاروں صنعتی یونٹ خطرات سے دوچار ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ انڈسٹری کو درآمد شدہ خام مال پر سیلز ٹیکس یا ڈیوٹی اد انہیں کرنا پڑتی جبکہ مقامی خام مال بھاری ٹیکس عائد ہیں اور ان صنعتوں کوریفنڈ کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے انکی کاروباری لاگت بڑھ جاتی ہے۔انہوںنے مزید کہا کہ موجودہ پالیسیوں کے سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر خام مال کی آڑ میں تیار مال درآ مد کرکے فوائد سمیٹ رہے ہیں جس سے دیگر ممالک کے مینوفیکچررز کو ملکی مینوفیکچررز پر ناجائز ترجیح مل رہی ہے جو ملکی مفادات کے خلاف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…