منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کے شعبے کے گردشی قرضےکتنے سو ارب روپے سے تجاوز گئے؟ سوال اٹھا دیا گیا گیا

datetime 23  جولائی  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )قرضوں پر تحقیقات کرنے والے کمیشن (آئی سی ڈی) نے بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے 900 ارب روپے سے تجاوز کرنے پر انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پیز) سے جائز منافع مارجن سے زیادہ وصول کرنے پر سوالات کیے ہیں۔واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سابق حکومتوں کے دور میں ملک کے قرضے بڑھنے کی تحقیقات کے لیے آئی سی ڈی کو بنایا تھا۔

اس حوالے سے عالمی ثالت کے ذریعے کسی بھی تنازع کو حل کرنے کے معاہداتی اختیار رکھنے والے انکوائری کمیشن کے ساتھ سیشن کے بعد آئی پی پیز کے ایڈوائزری کونسل (آئی پی پی اے سی) کے نمائندے نے نیوز کانفرنس میں دعوی کیا کہ ماضی میں ملک کے قرضے بڑھانے میں آئی پی پیز کا کوئی حصہ نہیں تھا۔آئی پی پی اے سی کے رکن اور حب پاور کمپنی کے چیف ایگزیکٹو خالد منصور کا کہنا تھا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن نے بریفنگ کے لیے بلایا تھا اور انہیں ٹیرف کی ترتیب، منظوری کا عمل اور بعد میں آنے والے منافع سے متعلق اعداد و شمار فراہم کرنے کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اعداد و شمار تحقیقاتی کمیشن کو اس فارمولے کے ساتھ فراہم کیے گئے ہیں کہ کس طرح آئی پی پیز ماضی کا ڈیٹا اور بروقت انداز میں ٹیرف ترتیب دینے کے طریقہ کار کا ریکارڈ شیئر کرسکتے ہیں۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز سے متعلق کمیشن کا عام تصور یہ ہے کہ انہوں نے جائز منافع سے 3 سے 4 گنا زیادہ منافع حاصل کیا۔چیف ایگزیکٹو کا کہنا تھا کہ گردشی قرضے 900 ارب روپے سے تجاوز کرگئے ہیں اور 22 آئی پی پیز کے تقریبا 370 ارب روپے حکومت پر واجب الادا ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…