ہفتہ‬‮ ، 31 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان میں 18.3 فیصد خاندان سنگین غذائی قلت کا شکار ہیں، اسٹیٹ بینک

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلا م آباد(آن لائن)اسٹیٹ بینک آ ف پا کستا ن نے کہا ہے کہ پاکستان میں 18.3 فیصد خاندان سنگین غذائی قلت کا شکار ہیں۔معاشی حالات پر اپنی سہ ماہی رپورٹ میں اسٹیٹ بینک نے پاکستان میں غذائی قلت کے مسئلے پر خصوصہ روشنی ڈالی۔بلوچستان میں تقریباً 30 فیصد گھرانے فاقے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری جانب گلگت بلتستان میں 80 فیصد گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح

70 فیصد ہے۔خوفناک بات یہ ہے کہ ملک کے 36.9 فیصد غذائی قلت کا شکار گھرانوں میں سے 18.3 فیصد کو سنگین غذائی قلت کا سامنا ہے۔صرف 63.1 فیصد ملک کے گھرانے غذا کے حوالے سے خوشحال ہیں۔در حقیقت وزارت صحت اور یونیسیف نیشنل نیوٹریشنل سروے 2018 کے مطابق پاکستان گندم پیدا کرنے والا دنیا کا 8واں، چاول پیدا کرنے والا دنیا کا 10واں، گنے پیدا کرنے والا دنیا کا 5واں اور دودھ پیدا کرنے والا دنیا کا چوتھا ملک ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ایک تہائی آبادی غربت کی سطح سے نیچے زنندگی گزار رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں 5 کروڑ افراد اپنی آمدنی کے حساب سے ضروریات زندگی سے محروم ہیں جن میں سے کئی افراد دیہاتی علاقوں میں رہتے ہیں جہاں غربت کی شرح 30.7 فیصد ہے۔آبادی کے تیزی سے بڑھنے اور نامناسب پانی اور ماحولیاتی صورتحال غذائی قلت کے حوالے سے تشویش آئندہ 2 سے 3 دہائی میں مزید بڑھے گی۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ’تخمینے کے مطابق غذائی قلت اور اس سے ہونے والے اثرات پر ہر سال ملک کی جی ڈی پی کا 3 فیصد (7.6 ارب ڈالر) خرچ ہوتا ہے‘۔1497 ڈالر فی فرد آمدنی کے ساتھ پاکستان اب بھی نامناسب نشونما، آئرن، کیلشیئم وٹامن اے وغیرہ کی کمی اور صاف پانی کے فقدان جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔’غذائی مصنوعات جیسے گوشت، مچھلی، دودھ، سبزی اور پھلوں کے فی فرد کھانے کے حساب سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک سے 6 سے 10 گنا پیچھے ہے‘۔اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ مل میں 5 سال سے کم عمر کے آدھے سے زائد بچوں کا قد چھوٹا ان کی عمر کے حساب سے چھوٹا ہے اور دس میں سے قد کے لحاظ سے وزن کی کمی کا شکار ہے۔خیال رہے کہ پاکستان گلوبل ہنگر انڈیکس پر 119 ممالک میں سے 106 نمبر پر آتا ہے جسے سنگین نوعیت کا غذائی قلت کا سامنا کرنے والا ملک بتایا جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کاشان میں ایک دن


کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…