جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

برآمدات کے فروغ کیلئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی بجائے زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے،متعلقہ شعبے کے افسران کی بطور کمرشل اتاشی تعیناتی نا گزیر

datetime 13  اپریل‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)برآمدات کے فروغ کیلئے سفارتخانوں میں صرف متعلقہ شعبے سے تعلق رکھنے والے افسران کی بطور کمرشل اتاشی تعیناتی اور ان کیلئے اہداف مقرر کئے جائیں ،بیرون ممالک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز میں پاکستانی مصنوعات کیلئے ’’پویلین ‘‘کے حصول کیلئے کام کیا جائے ،کسی بھی ملک میں منعقدہ ہر طرح کی نمائشوں میں شرکت کو یقینی بنایا جائے اور شرکت کیلئے جانے والوں سے وطن واپسی پر

مفصل رپورٹ لی جانی چاہیے ۔ ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سابق صدرپرویز حنیف نے ’’پاکستانی معیشت اورہماری برآمدات ‘‘کے حوالے سے منعقدہ ایک مذاکراے میں خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آ ج بنگلہ دیش جیسے ملک نے برآمدات میں ہمیں پیچھا چھوڑ دیا ہے اور پوری دنیا میں اس کی مصنوعات کی مانگ ہے ۔ہمیں اپنی برآمدات کے فروغ کیلئے کامیاب ممالک کو سٹڈی کرنا چاہیے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنے میں کوئی برائی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات کے فروغ میں بیرون ممالک سفارتخانوں کا کلیدی کردار ہے لیکن بد قسمتی سے انہیں آج تک کسی طرح کے اہداف نہیں دئیے گئے ۔ کمرشل اتاشیوں کی تعیناتی کیلئے ایک معیار مقرر کیا جائے اور متعلقہ شعبے کے علاوہ کسی دوسرے شعبے سے تعلق رکھنے والے افسرکو بطور کمرشل اتاشی ذمہ داریاں نہ سونپی جائیں ۔کمرشل اتاشی تعیناتی حاصل کرنے سے قبل اس ملک کی زبان پر مکمل عبور ،اس کے ماحول اور بڑی مارکیٹیوں سے آگاہی کو لازمی قرار دیا جائے ۔اگر ہم نے برآمدات کو فروغ دینا ہے تو ڈھنگ ٹپاؤ پالیسیوں کی بجائے زمینی حقائق کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ جب متعلقہ شعبے سے افسر کی تعیناتی اور اسے اہداف دئیے جائیں گے تو یقینی طو رپر اس کے نتائج بھی سامنے آئیں گے۔ پرویز حنیف نے کہا کہ ہمیں بیرون ممالک بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز پر پاکستانی مصنوعات کیلئے ’’پویلین ‘‘کے حصول کیلئے کام کرنا چاہیے اور اس کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں ۔کمرشل اتاشی مختلف ممالک کی جانب سے اپنی ضرورت کیلئے منگوائی جانے والی مصنوعات کا ڈیٹا اکٹھا کریں اوراس حوالے سے باضابطہ رپورٹ مرتب کر کے متعلقہ وزارت کو بھجوائی جائیں اور نتائج حاصل کرنے کے لئے اس پر کام کیا جائے ۔بیرون ممالک نمائشوں میں شرکت کو سیر و تفریح کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ شرکت کرنے والوں کو بھی اہداف دئیے جائیں اور انہیں وطن واپسی پرمفصل رپورٹ جمع کرانے کا پابند بنایا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…