جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت پاکستان کا کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص نہ کرنے کا فیصلہ

datetime 13  اپریل‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) پچھلے کئی سالوں کے دوران کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف حاصل نہ ہونے کے باعث رواں سال حکومت پاکستان کا کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص نہ کرنے کا فیصلہ ، چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ قبل ازیں ہر سال فروری میں وفاقی حکومت کا ادارہ ’’فیڈرل کمیٹی آف ایگریکلچر‘‘ (ایف سی اے ) متعلقہ کاٹن ایئر کیلئے کپاس کا

مجموعی ملکی پیداواری ہدف مختص کرتا تھا جس میں چاروں صوبوں میں کپاس کے پیداواری ہدف کے ساتھ ساتھ کپاس کی کاشت کا بھی ہدف مقرر کیا جاتا تھا لیکن رواں سال وفاقی حکومت نے ابھی تک کاٹن ایئر 2019-20 کیلئے کپاس کا پیداواری ہدف مختص نہیں کیا جس کے باعث کاٹن اسٹیک ہولڈرز میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایف سی اے پچھلے کئی سالوں کے دوران پاکستان میں ایک سال کیلئے کپاس کا مجموعی ملکی پیداواری ہدف ایک کروڑ 40لاکھ بیلز (170کلو گرام) کے لگ بھگ مختص کررہا ہے لیکن پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار پچھلے کئی سالوں سے ایک کروڑ سے ایک کروڑ 7 لاکھ کے لگ بھگ ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف سی اے کی جانب سے پچھلے کئی سالوں سے کپاس کے غیر حقیقت پسندانہ پیداواری ہدف مختص کئے جانے اور مسلسل حاصل نہ ہونے کے باعث پاکستان میں کاٹن اسٹیک ہولڈز میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی تھی کیونکہ اس غیر حقیقت پسندانہ پیداواری ہدف کے باعث کاٹن اسٹیک ہولڈز کو اپنی سالانہ حکمت عملی ترتیب دینے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…