اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے : لاہور چیمبر آف کامرس

datetime 11  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کے زیراہتمام ٹیکس ڈے کے موقع پر آگاہی واک منعقد کی گئی جس میں لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل، چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی جاوید احمد ، سابق صدر میاں انجم نثار، میاں نعمان کبیر، امجد علی جاوا، سید محمودغزنوی، میاں زاہد جاویدباؤ بشیر، ارشد خان، حارث عتیق

طلحہ طیب بٹ، کمال محمود امجد میاں، خالد پرویز، عبدالرزاق ببر، وقار احمد میاں سمیت صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ شہزاد ناصر نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو عزت و احترام دیا جائے اور ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو آمدن کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام اکثر معاشی مسائل کی وجہ ہے ، اسے کاروباری برادری کی مشاورت سے سادہ اور کاروبار دوست بنایا جائے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ٹیکس اصلاحات نہ صرف تاجروں کو ریلیف دیں گی بلکہ حکومتی محاصل بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسوں کی تعداد اور شرح میں کمی کرے تاکہ لوگوں کی ٹیکس نیٹ میں آنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں جو ممالک ہماری پیروی کررہے تھے آج وہ ہم سے کہیں آگے ہیں، ہمیں بھی تیز تر معاشی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی جاوید احمد نے کہا کہ ان کا ادارہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے کیونکہ یہ بہت سے مسائل کا واحد حل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…