ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے : لاہور چیمبر آف کامرس

  جمعرات‬‮ 11 اپریل‬‮ 2019  |  10:30

لاہور(این این آئی) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کے زیراہتمام ٹیکس ڈے کے موقع پر آگاہی واک منعقد کی گئی جس میں لاہور چیمبر کے قائم مقام صدر خواجہ شہزاد ناصر، نائب صدر فہیم الرحمن سہگل، چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی جاوید احمد ، سابق صدر میاں انجم نثار، میاں نعمان کبیر، امجد علی جاوا، سید محمودغزنوی، میاں زاہد جاویدباؤ بشیر، ارشد خان، حارث عتیقطلحہ طیب بٹ، کمال محمود امجد میاں، خالد پرویز، عبدالرزاق ببر، وقار احمد میاں سمیت صنعتی و تجارتی ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ


شہزاد ناصر نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے پاکستان کو ٹیکس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس دہندگان کو عزت و احترام دیا جائے اور ان لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جو آمدن کے باوجود ٹیکس ادا نہیں کررہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام اکثر معاشی مسائل کی وجہ ہے ، اسے کاروباری برادری کی مشاورت سے سادہ اور کاروبار دوست بنایا جائے۔ لاہور چیمبر کے نائب صدر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کی طرز پر ٹیکس اصلاحات نہ صرف تاجروں کو ریلیف دیں گی بلکہ حکومتی محاصل بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ٹیکسوں کی تعداد اور شرح میں کمی کرے تاکہ لوگوں کی ٹیکس نیٹ میں آنے کی حوصلہ افزائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں جو ممالک ہماری پیروی کررہے تھے آج وہ ہم سے کہیں آگے ہیں، ہمیں بھی تیز تر معاشی ترقی کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے۔ چیئرمین پنجاب ریونیو اتھارٹی جاوید احمد نے کہا کہ ان کا ادارہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب ریونیو اتھارٹی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے کیونکہ یہ بہت سے مسائل کا واحد حل ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

روکا روکی کا کھیل

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎

میں آج سے چھ سال پہلے بائی روڈ اسلام آباد سے ملتان گیا تھا‘ وہ سفر مشکل اور ناقابل برداشت تھا‘ رات لاہور رکنا پڑا‘ اگلی صبح نکلے تو ملتان پہنچنے میں سات گھنٹے لگ گئے‘ سڑک خراب تھی اور اس کی مرمت جاری تھی لہٰذا گرمی‘ پسینہ اور خواری بھگتنا پڑی‘ ہفتے کے دن چھ سال بعد ایک بار ....مزید پڑھئے‎