جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

موجودہ کمزور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو بھر پور سپورٹ کرینگے ،چیئرمین پاک امریکہ بزنس کونسل

datetime 2  اپریل‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) پاک امریکہ بزنس کونسل کے بانی چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ ملک بھر کی بزنس کمیونٹی، فیڈریشن پاکستان چیمبرز آف کامرس، تمام چیمبرز، تجارتی ادارے اور تنظیمیں ٹیکس بڑھانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو مکمل اور بھر پور حمایت فراہم کریں گی تاکہ موجودہ کمزور معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے یہ بات منگل کو یہاں لاہور چیمبر کے ممبر ایگزیکٹو کمیٹی زاہد جاوید بٹ اور سرپرست انجمن تاجران لبرٹی جبریل قمر بٹ کی سربراہی میں بزنس کمیونٹی کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اور ترقی باہم مربوط ہیں اور ایسا صرف منصفانہ ٹیکس سسٹم کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔ اگر کاروبار اور معیشت کی ترقی رک جائے تو ٹیکسوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیکس دہندگان کا تناسب افغانستان سے بھی کم ہے اس لئے قومی معیشت کو مضبوط بنانے کے لئے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو مطلوبہ نتائج کے حصول کیلئے پالیسی سازی کے عمل میں کاروباری رہنماؤں، خاص طور پر ایف پی سی سی آئی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے، ٹیکس وصولیوں کا نظام سادہ اور آسان ہونا چاہئے، ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لئے ٹیکس وصولیاں کرنے والے تمام اداروں کو ایک وزارت یا ادارے میں ضم کرنا ہوگا اس سے ملک میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی بینک کے مطابق کاروباری آسانیوں کے لحاظ سے پاکستان 190 ممالک کی فہرست کے 144 ویں نمبر پر ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کے صدر انجینئر دارو خان اچکزئی نے اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس لیکیج کو روکنے اور ٹیکس نیٹ کی توسیع سے موجودہ ٹیکس دہندگان کو فائدہ ہوگا کیونکہ اس سے موجودہ ٹیکسوں کی بھاری شرح کم ہو گی۔ تقریباً 18 لاکھ افراد ٹیکس ادا کرتے ہیں جبکہ بجلی کے بلوں پر ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں کی تعداد 7 ملین تک پہنچ گئی ہے اور یہ فرق حکومت کی مخلصانہ کوششوں

کی حمایت کے بغیر دور نہیں کیا جا سکتا۔ نادرا کے ذریعہ ٹیکس پروفائلز بنانے کے لئے وزیر اعظم کے منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے افتخار علی ملک نے کہا کہ نادرا نے 30 لاکھ سے زائد ممکنہ ٹیکس دہندگان کا سراغ لگا لیا ہے جو پوش علاقوں میں لگژری مکانات اور ایک سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کے حامل ہیں اور اکثر غیر ملکی دورے کرتے ہیں لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

افتخار علی ملک نے تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف قومی مفاد میں جمہوری نظام کو مضبوط بنانے میں مدد کریں کیونکہ اقتصادی ترقی کے لئے سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے اور اس کیلئے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منظرنامے میں بھی صرف وہی ممالک محفوظ رہیں گے۔

جن کی اقتصادی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ میاں زاہد جاوید نے کہا کہ مستحکم معیشت کے لئے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں اور نجی شعبہ صرف اسی صورت میں سرمایہ کاری کریں گے جب جمہوری ادارے مضبوط ہونگے اور ماحول پرامن ہوگا۔ جبریل قمر بٹ نے کہا کہ کاروباری برادری قومی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے افتخار علی ملک کے ان تمام فیصلوں کی حمایت کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…