جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اسٹیٹ لائف میں 4 ارب 80کروڑ روپے کے گھپلے،فراڈ کیلئے کون سا طریقہ استعمال کیا گیا؟ہوشرباانکشافات

datetime 28  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد(سی پی پی )اسٹیٹ لائف آف پاکستان میں ڈمی ایجنٹس کے نام پر4ارب 80کروڑ روپے کے گھپلوں کا انکشاف ایک بار پھر سامنے آیاہے ۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ انکشاف دوسری بار بھی یونس ڈھاگا نے ہی سیکرٹری خزانہ و چیئرمین اسٹیٹ لائف کارپویشن کے طور پرسینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت وٹیکسٹائل کے اجلاس میں کیاہے ۔

مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت اجلاس میں یونس ڈھاگا نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے امور پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ چیر مین اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کا چارج انکے اپنے پاس ہے۔انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے اثاثے 800ارب روپے کے ہیں۔ ادارے کا مارکیٹ شیئرکم ہوکر 28 فیصد تک آگیا ہے۔ کارپوریشن میں ڈمی قسم کی خریداری ہوتی رہی ہے۔ ڈمی ایجنٹس کے نام پر کمیشن وصول کیا جاتا رہا ہے۔یونس ڈھاگا نے بتایا کہ اسٹیٹ لائف میں ڈبل کمیشن وصول کیا جاتا رہا ہے۔ ڈمی ایجنٹس کے نام پر لگ بھگ 4ارب 80کروڑ روپے کا کمیشن وصول کیا گیا۔حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیٹ لائف نے وفات پانے والوں کی رقم سرمایہ کاری میں لگادی ہے۔وفات پانے اور کلیمز میچور ہونے والوں کو 10ارب روپے ادا کرنے ہیں۔ اسٹیٹ لائف نے ایک لاکھ سے زائد کلیمز کی مد میں یہ ادائیگی کرنی ہے۔ وفات پانے والے تقریبا 9ہزار کے لواحقین کو ادائیگی کرنی ہے۔ کلیمز میچور ہونے والے 96ہزار افراد کو ادائیگی بھی کرنی ہے۔اسٹیٹ لائف نے واجبات الادا 10ارب روپے سرمایہ کاری میں لگادیے ۔حکام نے کہا دس ارب روپے کی سرمایہ کاری پراسٹیٹ لائف منافع بھی کمارہا ہے۔ کمیٹی نے 10ارب روپے سرمایہ کاری میں لگانے پر اظہار برہمی کیا اور ہدایت کی کہ واجبات کی ادائیگی کا عمل تیز اورحائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…