جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پائما نے ٹیکسٹائل کے خام مال پولیسٹرفلامنٹ یارن کی نئی ویلیو ایشن رولنگ مسترد کردی،نظرثانی درخواست دائر

datetime 19  مارچ‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن( پائما) نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال پولیسٹر فلامنٹ یارن کی نئی ویلیو ایشن رولنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے اور15مارچ2019کو جاری کی گئی ویلیو ایشن رولنگ1355/2019کوکسٹم ایکٹ1969کی شق 25ڈی کے تحت چیلنج کیا ہے ۔پائما نے محکمہ کسٹمز سے موجودہ متنازع

ویلیو ایشن رولنگ واپس لینے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نئی رولنگ جاری کرنے کامطالبہ کیا ہے۔پائما کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کے پاس دائر کی گئی ویلیوایشن کا ازسرنو جائزہ لینے کی درخواست میں اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر رولنگ کے اجراء پر احتجاج کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔درخواست میں بتایاگیا کہ گزشتہ 10سالوں سے ایک نظام کے تحت محکمہ کسٹمز کا ویلیو ایشن ڈپارٹمنٹ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے پچھلے 90دنوں کے ڈیٹا کی بنیاد پر اگلے90دنوں کے لیے ویلیو ایشن رولنگ جاری کرتا ہے اس ضمن میں پائما نے گزشتہ90دنوں کا ڈیٹا بھی جمع کروایا تھا لیکن اس کے باوجوددرآمدی پولیسٹر فلامنٹ یارن کی زائدپرائس پر رولنگ جاری کردی گئی جبکہ حقیقی پرائس بہت کم ہیں جس کی تصدیق پولیسٹر خام مال کی بین الاقوامی ویب سائٹ سے کی جاسکتی ہے۔پائمانے اپنی نظرثانی درخواست میں ڈائریکٹر جنرل سے پولیسٹر فلامنٹ یارن کی نئی ویلیو ایشن رولنگ واپس لینے اور پرائس کا ازسر نوجائزہ کے لیے ایسوسی ایشن سے مشاورت کی درخواست کی ہے تاکہ حقیقی ویلیوایشن رولنگ جاری کی جاسکے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال کی مناسب داموں درآمد یقینی بنائی جاسکے جس سے نہ صرف ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مناسب قیمت پر خام مال ملے گا بلکہ حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوگااوردرآمدکنندگان کو بھی برابری کی سطح پر کاروباری مواقع مسیر آئیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…