جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت بجلی ، گیس کی قیمتیں بڑھانے کے باوجود گردشی قرضوں میں یومیہ 127کروڑ کااضافہ کر رہی ہے ، مفتاح اسماعیل

datetime 17  مارچ‬‮  2019 |

لاہور( این این آئی)سابق وزیر خزانہ و مسلم لیگ(ن) کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت بجلی اور گیس کے بلوں میں بالترتیب 15اور45فیصد اضافہ کرنے کے باوجود گردشی قرضوں میں یومیہ 127کروڑ روپے کااضافہ کر رہی ہے جبکہ ہمارے دور میں قیمتیں نہ بڑھا کر بھی یہ اضافہ یومیہ اوسط7.7کروڑ روپے تھا،جون 2018ء تک ملک کا مجموعی قرضہ 25ہزار روپے ارب تھا ۔

اور رواں مالی سال کے سات ماہ جو ن2019ء تک موجودہ حکومت نے اس میں 3ہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے ۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت لفظوں کے ہیر پھیر سے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوششیں کر رہی ہے لیکن یہ روزانہ ایکسپوز ہو رہے ہیں ۔ یہ کہا جارہا ہے کہ قرضوں کی وجہ پہلے لئے گئے قرضوں پر سود کی ادائیگی ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جنوری 2019ء تک حکومت نے صرف 700ارب روپے قر ض ادا کیا ہے باقی 2300ار ب روپے کہاں گئے ۔ ہم نے بھی حکومت کی ہے اور سابقہ ادوار کے قرض اور اس پر سود ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت جب بلند خسارے کا شکار ہوئی تو کم از کم معاشی شرح نمو بہت اونچی تھی جس سے قومی آمدنی میں 2ہزار ار ب روپے کا اضافہ ہوا ۔ ہم نے 700ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر لگائے لیکن موجودہ حکومت نہ ترقیاتی منصوبے بنا رہی ہے اور نہ ہی شرح نمو بڑھا پا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اصلاحات کی بجائے ڈھنگ ٹپاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے جس کے ملکی معیشت پر انتہائی برے نتائج مرتب ہو رہے ہیں ۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…