جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس : پرامن بلوچستان کیلئے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور

datetime 27  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پرامن بلوچستان کے لیے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ کی منظوری دے دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کی زیر صدارت ہوا، رابطہ کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کے مرحوم ملازمین کے خاندانوں کے لیے مین 4 کروڑ 60 لاکھ روپے گرانٹ کی منظوری دے دی۔

اجلاس میں پرامن بلوچستان کے لیے فنانس منسٹری کی سمری کی منظوری بھی دی گئی۔ پرامن بلوچستان کے لیے 20 کروڑ روپے کی گرانٹ کی سمری دی گئی تھی۔ اقتصادی کمیٹی نے فنانس ڈویژن کی سپلیمنٹری گرانٹ کے فوری اجرا کی منظوری بھی دے دی۔ اجلاس میں وزارت نجکاری کے لیے 1 کروڑ 14 لاکھ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں قومی ایئر لائن کی معاونت سمیت گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کے لیے ضروری ترامیم پیش کی گئی تھیں۔ گزشتہ اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات مارکیٹنگ لائسنس کے اجرا کے لیے نئے قواعد وضوابط کے حوالے سے سمری بھی پیش کی گئی جبکہ مائیک تروجابا آئل پائپ لائن منصوبے کا معاملہ زیر غور آیا تھا۔ دوسری جانب وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ حکومت ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے ٹیکس نظام میں آسانیاں پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ بڑے لوگوں کو پکڑیں تو خود بہ خود پیغام پہنچ جائے گا، پیغام جائے گا تو جو ٹیکس نہیں دیتے وہ بھی دینا شروع ہو جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…